تاریخ افکار اسلامی — Page 45
تاریخ افکار را سلامی ۴۵ اور ان سے تعلقات رکھتے ہیں تو آپ نے جواب دیا زجنگ الله واين التكلم بالحق خدا تجھ پر رحم کرے اگر میں ایسا نہ کروں تو کہاں جاکر ان کے سامنے کلمہ حق کہوں اور فرمانِ رسول کے مطابق أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقِّ عِنْدَ سُلْطَان جَائِرِ کافریضہ سرانجام دوں لے۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمانہ کے امراء کے سامنے کلمہ حق کہنے میں یہ بزرگ شمشیر بر ہنہ تھے۔خلفاء عباسیہ بیعت لیتے وقت لوگوں کو طرح طرح کی قسمیں دے کر ان سے عہد لیا کرتے تھے کہ وہ بیعت نہیں توڑیں گے۔ان قسموں میں ایک قسم یہ بھی تھی کہ اگر میں بیعت تو ڑوں تو میری ساری بیویوں کو تین طلاقیں اور آئندہ میں سال تک جس عورت سے بھی نکاح کروں اسے بھی تین طلاق ہوں۔اس قسم کی لی گئی جبری قسموں کے بارہ میں امام مالک کا نظریہ یہ تھا کہ جبری طلاق واقعہ نہیں ہوتی اس وجہ سے مدینہ کے عباسی والی نے آپ کو گر فتار کر لیا۔کوڑے لگوائے اور اتنی سختی کی کہ آپ کے کاندھے اتر گئے جس کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے آپ کے ہاتھ بیکار ہو گئے۔آپ انہیں نہ اوپر اٹھا سکتے تھے اور نہ چادر اوڑھ سکتے تھے۔اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ آپ کو رسوا کرنے کے لئے اونٹ پر سوار کر کے مدینہ کی گلیوں میں پھرایا گیا۔اس حالت میں بھی اونٹ پر سوار آپ بلند آواز سے کہتے جاتے تھے آلَامَـنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الإِصْبَحِي وَأَنَا أَقُولُ طَلاق المُكْرَهِ لَيْسَ بِشَيْءٍ " لوگو! پہچان لو میں مالک بن انس ہوں اور علی الاعلان کہتا ہوں کہ جبر سے لی گئی طلاق کچھ بھی نہیں ہے وہ بے اثر اور لغو ہے۔کے علماء نے وضاحت کی ہے کہ امام مالک کا یہ موقف اس بنا پر نہیں تھا کہ آپ قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کو جائز سمجھتے تھے بلکہ آپ کے نزدیک یہ ایک شرعی مسئلہ تھا جس کو آپ صحیح مجھتے تھے اور اس کے اظہار کو اپنا حق جانتے تھے۔کے آپ کا یہی صدق و ثبات تھا کہ خلفاء عباسیہ مالک بن انس صفحه ۲۵۵ مالک بن انس صفحه ۲۳۸ ے اس واقعہ کی کچھ مزید تفصیل حضرت امام مالک کے سوانح میں بھی آ رہی ہے۔فَمَا لِكَ لَا يَرَى الْخُرُوجَ عَلَى الْإِمَامِ الْجَائِرِ كَمَا يَرَى الْخَوَارِجُ وَلَا يَرَى سَلُّ السَّيْفِ فِي سَبِيْلِ الأمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهَى عَنِ الْمُنكَرِ كَمَا يَرَى الْمُعْتَزِلَةُ وَ مَالِكَ يَسُدُّ الدَّرَائِعَ إِلَى الْفِتْنَةِ وَيَرَى أَنَّ الدُّنْيَا يَصْلُحُهَا السَّلامُ (أى آلَا مَنْ ) ( مالک بن انس صفحه (۳۳۵)