تاریخ افکار اسلامی — Page 25
تاریخ افکا را سلامی ۲۵ نظریاتی اور کلامی لحاظ سے اہل السنت والجماعت کی ذیلی شاخیں عقاید اور نظریات میں بعض معمولی اختلافات کے لحاظ سے اہل السنت والجماعت کی مندرجہ ذیل شاخیں ہیں - أشاعرة۔مَاتُرِيلِيَه سَلْفِيَّه ا- أَشَاعِرَه اشاعرہ اہل السنت والجماعت کا وہ گروہ ہے جو کلامی مسائل میں امام ابوالحسن بن اسمعیل الاشعری کا پیرو ہے۔امام اشعری بصرہ کے رہنے والے تھے۔۲۶۰ ھ میں پیدا ہوئے اور ۳۳۰ ھ میں ان کی وفات ہوئی۔امام اشعری پہلے معتزلی المسلک تھے اور مشہور معتزلی عالم کے ابو علی البھائی کے شاگر د تھے لیکن بعد میں اہل السنت کے مسلک کو اپنا لیا اور اپنے استاد علامہ جہائی سے متعدد مناظرے کئے اور علم کلام میں آپ نے بڑے پائے کی کتابیں لکھیں جن میں سے مقالات الاسلاميين“ زیادہ مشہور ہے۔آپ جمہور مسلمانوں کے مانے ہوئے امام ، کامیاب مناظر اور اعلیٰ پایہ کے خطیب تھے۔علامہ بغدادی نے آپ کا ایک مناظرہ نقل کیا ہے جو آپ نے اپنے استاد الجبائی سے کیا تھا جس میں آپ کی ذہانت اور مناظرہ میں مہارت کا پتہ چلتا ہے۔یہ مناظرہ کچھ اس طرح ریکارڈ ہوا ہے۔اشعری: مومن کافر اور بچہ کی نجات کے بارہ میں آپ کی رائے کیا ہے؟ جبائی: مؤمن جنت میں جائے گا اور کافر دوزخ میں اور بچہ کو نہ عذاب ہوگا اور نہ وہ جنت میں جائے گا کیونکہ جنت میں جانے کے لئے اعمال کا ہونا ضروری ہے اور بچہ کا ظاہر ہے کہ کوئی عمل نہیں۔اشعری: بچہ یہ کہ سکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور مہلت دیتا تو میں نیک اعمال بجالاتا۔بچپن میں فوت ہو جانا تو میرا کوئی قصور نہ تھا۔اس لئے مجھے جنت سے کیوں محروم کیا گیا ہے۔حیائی: خدا اس کا یہ جواب دے سکتا ہے کہ میرے علم میں تھا کہ اگر اس بچہ کو عمر اور مہلت ملی تو یہ بد کار ہو جائے گا اور دوزخ کا ایندھن بنے گا اس لئے بچہ کی مصلحت اسی میں تھی کہ وہ نا بانعی کی عمر میں ہی فوت ہو جائے تا کہ کم از کم دوزخ کے عذاب سے تو وہ بچار ہے۔اس تبدیلی کے بارہ میں مختلف آراء کے لئے دیکھیں تاريخ الفرق الاسلامية - صفح۱۵۲