تاریخ افکار اسلامی — Page 385
تاریخ افکا را سلامی 14 متعلقہ پیشگوئیوں کو حقیقت پر محمول کرتے ہیں اور پیشگوئیوں کے اس اصول کو بھول جاتے ہیں کہ تعبیر اور تمثیل ، استعارہ اور مجاز پیشگوئیوں کا خاصہ ہے اور اس زبان کے اختیار کرنے کی ایک حکمت یہ ہوتی ہے کہ جس زمانہ میں پیشگوئی کی جاتی ہے اُس زمانہ کے لوگ پیشگوئی میں مضمر اصل حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے نیز ان پیشگوئیوں کا تعلق غیب سے ہوتا ہے اور اصل ثواب ایمان بالغیب میں ہے اور جب وہ ظاہر ہوتی ہیں اور ان کی اصلیت سامنے آتی ہے تو صادق الایمان فورا کہ اُٹھتے ہیں هَذَا مَا وَعَدَنَا الله وَرَسُولَهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَ تَسليما بہر حال عام مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ وجال کوئی مافوق الفطرت عجیب و غریب انسانی وجود ہے جو بڑی تباہ کن ، خفیه، باطنی طاقتوں کا حامل ہوگا اور وہ ایک ایسے گدھے پر سوار ہو گا جس کی طاقتیں بھی اُسی کی طرح غیر معمولی ہوں گی یہی حال یا جوج ماجوج نامی طاقتوں کا ہوگا یہ سب طاقتیں مسلمانوں کو تباہ کرنے پر تل جائیں گی اس وقت اللہ تعالیٰ امام مہدی اور مسیح کو بھیجے گا جو پھونکوں سے ان طاقتوں کو تباہ کر دیں گے۔مسیح مزید یہ کام کریں گے کہ وہ صلیبوں کو توڑنے کے لئے شہر شہر قریہ قریہ پھریں گے اور خنزیروں کو قتل کرنے کے لئے جنگلوں میں نکل جائیں گے اور یہ دونوں بزرگ وجو د بیٹھے بٹھائے مسلمانوں کو دنیا بھر کی حکومتوں اور دولتوں کا مالک بنا دیں گے۔یہ تصور مجو به پسندی اور امانی سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔اصل حقیقت کیا ہے اس کے لئے بڑے وسیع غور وفکر اور مطالعہ کی ضرورت ہے۔اس مضمون میں چند حقائق ہی پیش کئے جاسکتے ہیں۔لغت کی قریباً تمام کتب میں دجال کے یہ معنے بیان کئے گئے ہیں 19 الدَّجَّالُ طَائِفَةٌ عَظِيمَةٌ تَحْمِلُ الْمَتَاعَ لِلتِّجَارَةِ ، یعنی دجال ایسے بڑے تاجروں کے گروہوں (تجارتی کمپنیوں ) کا نام ہے جو مال تجارت کو ادھر اُدھر لے جانے کے لئے نقل و حمل کے عظیم و سائل رکھتے ہیں۔عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں دجال کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے اس بات کو بھی نمایاں طور پر واضح کیا گیا ہے کہ مکروفریب پر جھوٹ اور کھوٹ ان تجارتی طاقتوں کی سرشت میں داخل ہوگا۔الاحزاب : ۲۳ تاج العروس زير لفظ "دجل“ عمدة القاري شرح صحيح البخارى جلد ۱ صفحه ۳۸۶ مطبوعه دار الطباعة العامره مصر