تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 384 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 384

تاریخ افکا را سلامی ۳۸۴ بزرگان دین کا ان نشانوں کا ذکر کرنا۔شیعہ اور سنی دونوں فرقوں کی کتابوں میں اس پیشگوئی کا پایا جانا۔ان گرہنوں کا ٹھیک دعوی مہدویت کے بعد انتہائی مخالفت کے وقت میں وقوع ہونا۔ان گرہنوں کا بڑی باریکیوں کے ساتھ پیشگوئی کے شرائط کو حرف بحرف پورا کرنا۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا بڑی تحدی کے ساتھ ان گرہنوں کا اپنے دعوی کی تائید میں پیش کرنا۔آپ کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ یہ نشانات میرے لئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ اعلان کرنا کہ یہ نشانات میری تصدیق کے لئے ہیں۔یہ ایسے امور ہیں جو ہر متلاشی حق کو سچائی کو قبول کرنے کی پر زور دعوت دیتے ہیں۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں۔اسْمَعُوا صَوْتَ السَّمَاءِ جَاءَ الْمَسِيحَ جَاءَ الْمَسِيحِ نيز بشنو از زمین آمد امام کامگار یعنی سنو ! آسمان سے آواز آرہی ہے کہ مسیح آ گیا مسیح آگیا نیز فرماتے ہیں۔آسمان با رونشان الوقت میگوید زمیں این دو شاہد از نے تصدیق من استاده اند نیز فرماتے ہیں۔آسمان میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک وتار نیز فرماتے ہیں۔یا رو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا لے - اس مسیح موعود کی صداقت کی ایک دلیل یہ ہے کہ اُس کے زمانہ میں دجال اور یا جوج ماجوج کا ظہور اور غلبہ ہوگا بعض مسلمان جس طرح مہدی اور مسیح کے بارہ میں بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔اسی طرح دجال اور یا جوج ماجوج کی حقیقت کو سمجھنے میں بھی غلطی خوردہ ہیں اور یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اس سے لے ڈاکٹر صالح محمداللہ دین صاحب کے مضمون سے اقتباسات مصباح مئی ۱۹۹۴ء صفحہ ۳۲ تا۵۲ سے دیئے گئے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کا اس عنوان پر مضمون خالد اگست ۱۹۹۴ م او ر یویو آف ریلیجنز انگش ستمبر ۱۹۹۴ء میں بھی شائع ہوا تھا۔(ناشر)