تاریخ افکار اسلامی — Page 376
تاریخ افکا را سلامی MZY بست و هفت و بست و هشت و بست و نهم میشود ۲ یعنی میں کہتا ہوں کہ اہل نجوم کے نزدیک چاند گرہن سورج کے مقابل آنے سے ایک خاص حالت میں سوائے تیرھویں ، چودھویں اور پندرھویں اور اسی طرح سورج گرہن بھی خاص شکل میں سوائے ستائیسویں ، اٹھائیسویں اور انیسویں تاریخوں کے کبھی نہیں لگاتا۔پیشگوئی میں یہ بتایا گیا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں چاند گرہن اوّل رات میں ہوگا اور سورج گرہن درمیان میں۔لہذا چاند گرہن کے لئے تیرھویں رمضان اور سورج گرہن کے لئے اٹھائیسویں رمضان مقرر ہوئے۔اس پیشگوئی کے سلسلہ میں متعد داعتراضات کئے گئے جو اعتراضات آپ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) پر کئے گئے ان میں یہ اعتراض بھی تھا کہ سورج گرہن چاند گرہن کے بارے میں جو پیشگوئی ہے وہ پوری نہیں ہوئی ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ نشان آسمانی دکھایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ۱۳۱۱ھ بمطابق ۱۸۹۴ء میں رمضان المبارک کی مقرر کر وہ تاریخوں میں چاند اور سورج کو گرہن لگے۔چاند گرہن رمضان المبارک کی ابتدائی تیرھویں رات ۲۱ / مارچ کو ہوا اور سورج گرہن ۲۸ رمضان المبارک بروز جمعه ۶ سراپریل کو۔۱۸۹۴ء کی جنتری کے علاوہ گرہن کا ذکر اخبار آزاد اور سیول اینڈ ملٹری گزٹ میں بھی ہوا۔پروفیسر T۔Von Oppolzir کی کتاب Canon of Eclipses میں B۔C ۱۲۰۸ سے لے کر AC ۱۲۶۱ کے گرہنوں کی انگریزی تاریخیں دی گئی ہیں۔اس کتاب سے بھی مذکورہ بالا تاریخوں کی تصدیق ملتی ہے۔یہ کتاب عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد کے شعبہ بیت کی لائبریری میں موجود ہے۔۱۸۹۴ء کے Nautical Almanal London سے بھی تصدیق حاصل کی جاسکتی ہے۔