تاریخ افکار اسلامی — Page 375
تاریخ افکا را سلامی ۳۷۵ طور پر پایا جاتا ہے۔قرآن مجید میں سورۃ القیامۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَ ايْنَ الف لے یعنی پس جس وقت آنکھیں پتھرا جائیں گی اور چاند گرہن ہوگا اور سورج اور چاند ا کٹھے کئے جائیں گے یعنی سورج کو بھی گرہن لگے گا تب اس روز انسان کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اس آخری زمانہ میں ہونے والے گرہنوں کی تفصیل ہمیں ایک مشہور حدیث سے ملتی ہے۔چوتھی صدی ہجری میں حضرت علی بن عمر البغدادی الدار قطنی (۱۳۰۶ / ۰۹۱۸ تا ۱۳۸۵ / ۰۹۹۵) بلند پایه محدث گزرے ہیں۔وہ اپنی سنن دار قطنی میں حضرت امام با قرمحمد بن علی رضی اللہ عنہ (جو حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے ) کی روایت سے یہ حدیث درج فرماتے ہیں۔إِنَّ لِمَهْدِيَّنَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لَاوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النَّصْفِ مِنْهُ - یعنی ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں وہ کبھی نہیں ہوئے (یعنی کبھی کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوئے) جب سے کہ آسمان اور زمین پیدا ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں کہ رمضان کے مہینہ میں اوّل رات کو گرہن لگے گا (یعنی گرہن کی راتوں میں سے اوّل رات کو ) اور سورج کو درمیان میں گرہن لگے گا (یعنی گرہن کے دنوں میں سے درمیانے دن کو ) اور یہ ایسے نشان ہیں کہ جب سے اللہ تعالی نے آسمان و زمین پیدا کیا کبھی کسی دوسرے مامور و مدعی کے لئے ) نہیں ہوئے۔گرہن کی تاریخوں کا ذکر نواب صدیق حسن خان صاحب اپنی کتاب حجج الکرامہ میں لکھتے ہیں۔" کویم خسوف قمر نز دابل نجوم متقابل شمس بر هیئت مخصوص میشود در غیر تاریخ سیزدهم و چهار و هم و یا نز دہم اتفاق می افتد و انھیں کسوف شمس بر هیئت بر شکل خاص در غیر تاریخ القيامة : ١١٨ سنن دار قطنی کتاب العیدین باب صفة صلوة الخسوف جلد اوّل صفحه ۱۸۸ مطبع انصاری دہلوی حجيج الكرامه صفحه ۳۳۴ مطبوع مطبع شاہجہانی بھوپال