تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 365 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 365

تاریخ افکا را سلامی ۳۶۵ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ فَأَمَّكُمْ مِنْكُمْ، یعنی تمہاری کتنی نازک حالت ہوگی جب تم میں ابن مریم آئیں گے جو تمہاری امامت اور قیادت کا فریضہ سر انجام دیں گے اور تم میں شامل ہوں گے۔مسند احمد کی حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔” يُوْشَكُ مَنْ عَاشَ مِنكُمْ أَنْ يُلْقَى عِيْسَى بْنَ مَرْيَمَ إِمَا مَا مَهْدِيَّا وَ حَكَمًا عَدَلًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيْبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِير۔یعنی تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ عیسی بن مریم سے ضرور ملے گا وہی امام مہدی ہے حکم عدل ہے صلیب کو ( بدلائل ) تو ڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا۔کنز العمال کی روایت بھی اس حد بیث کی تصدیق کرتی ہے جو یہ ہے لا يَزْدَادُ الأمْرُ إِلَّا شِدَّةً وَلَا الدُّنْيَا إِلَّا إِدْبَارًا وَلَا النَّاسُ إِلَّا شُعًا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ وَلَا مَهْدِيَّ إِلَّا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ یعنی ایک وقت آتا ہے کہ حالات زیادہ بگڑ جائیں گے۔دنیا میں (مسلمانوں کے ) ادبار کا دور دورہ ہوگا لوگ بخل اور خود غرضی سے بھر جائیں گے اور وہ شرارتوں میں اس قدر بڑھ جائیں گے کہ کو یا قیامت ہی آگئی ہے (سب کی زبان پر یہ ہوگا کہ کوئی مصلح کوئی منجی لیکن ) اُس وقت عیسی بن مریم کے سوا کوئی مہدی اور نجات دہندہ نہیں ہو گا انہی کے ذریعہ حالات سدھریں گے۔حضرت حسن بصری جو صاحب عرفان محدث تھے وہ فرماتے ہیں۔إِنْ كَانَ الْمَهْدِيُّ فَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَ إِلَّا فَلَا مَهْدِيَّ إِلَّا عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ » یعنی اگر کوئی مہدی ہے تو عمر بن عبد العزیز ہیں ورنہ پھر عیسی کے سوا کوئی اور مہدی نہ ہوگا۔ان روایات سے ایک اور ایک دو کی طرح یہ بات ثابت ہے اور جو شخص اسلام کی حقانیت پر مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسی ابن مریم مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۴۱۱ كنزل العمال جلد صفحه ۱۸۲ مطبوعه مطبع النظاميه حیدر آبا ور کن ۱۳۱۴ هـ تاريخ الخلفاء للسيوطي صفحه ۱۵۸ (عہد بنوامیہ )