تاریخ افکار اسلامی — Page 343
تاریخ افکا را سلامی تیسرا عظیم الشان موعود جس کے ظہور کی پیشگوئیاں کتب سابقہ اور اسلام کے دینی ادب میں بکثرت موجود ہیں وہ " مسیح موعود ہے لیکن قبل اس کے کہ ان پیشگوئیوں اور دلائل کو زیر بحث لایا جائے جن کا تعلق مسیح موعود کی صداقت سے ہے ایک بنیادی اُصول“ کو بیان کرنا ضروری ہے جس میں یہ وضاحت ہے کہ ماموریت کے دعویداران کو اگر لوگ سچا نہیں سمجھتے تو وہ ان کے ساتھ کیا رویہ اور سلوک اختیار کریں۔قرآن کریم نے اس الہی اُصول“ کو ایک واقعہ کی شکل میں بیان کیا ہے جس کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ نے نبوت کا دعوی کیا تو آپ کی سخت مخالفت شروع ہوگئی اس پر قوم کے ایک سمجھ دار فرد نے نصیحت کے رنگ میں مخالفین سے کہا کہ موسیٰ نے ایک دعوی کیا ہے وہ اس دعوی کو لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے اس سلسلہ میں نہ وہ تشدد سے کام لیتا ہے اور نہ ہی بغاوت اور فساد پر اُکساتا ہے صرف وعظ و تلقین کی راہ اختیار کئے ہوئے ہے اس دعویٰ میں اگر وہ جھوٹا ہے تو اس جھوٹ کی سزا اُسے خدا دے گا وہ خود پکڑا جائے گا اور خدا تم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے اس جھوٹے کی مخالفت کیوں نہیں کی تھی لیکن اگر وہ سچا ہے تو پھر مخالفت کر کے تم مارے جاؤ گے خدا کی گرفت سے تم بیچ نہیں سکو گے۔پس اگر وہ سچا ہے تو وہ ضرور کامیاب ہو گا اور تم نا کام رہو گے۔یہ قرآنی اصول ہر اُس مدعی نبوت اور ماموریت سے متعلق دائمی ہے جس نے اپنے مشن کی بنیا د حکمت و موعظت پر رکھی ہو۔اس اصولی وضاحت کے بعد سب سے پہلے ہم انجیل کی بعض پیشگوئیوں کو پیش کرتے ہیں جن کا تعلق مسیح موعود کی بعثت سے ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام اپنی دوبارہ آمد کے بارہ میں فرماتے ہیں۔میں تمہیں یتیم نہ چھوڑوں گا۔میں تمہارے پاس آؤں گا۔تم سن چکے ہو کہ میں نے تم سے کہا کہ جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں۔پھر انجیل متی کے مطابق مسیح نے فرمایا۔إِن يَّكَ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُ وَإِذْ يَكُ صَادِقَاتُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لا تهدى من هو مُسرِقُ كَذَّابٌ - (المؤمن (٢٩) : کے یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۸ تا ۲۸