تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 327 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 327

تاریخ افکارا سلامی ۳۲۷ تین عظیم الشان موعود ایک گھر کا مالک تھا جس نے انگورستان لگایا اور اُس کی چاروں طرف روندھا اور اس کے بیچ میں حوض کھود کے کول ہو گاڑا اور برج بنایا اور باغبانوں کو سونپ کے آپ پر دلیس گیا اور جب میوہ کا موسم قریب آیا تو اس نے اپنے نوکروں کو باغبانوں پاس بھیجا کہ اس کا پھل لاویں پر باغبانوں نے اُس کے نوکروں کو پکڑ کے ایک کو بیٹا اور ایک کو مار ڈالا اور ایک کو پتھراؤ کیا۔پھر اُس نے اور نوکروں کو جو پہلوں سے بڑھ کر تھے بھیجا۔انہوں نے ان کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا۔آخر اس نے اپنے بیٹے کو ان پاس یہ کہہ کر بھیجا کہ وے میرے بیٹے سے وہیں گے لیکن جب باغبانوں نے بیٹے کو دیکھا، آپس میں کہنے لگے وارث یہی ہے آؤا سے مارڈالیں کہ اس کی میراث ہماری ہو جائے اور اُسے پکڑ کے اور انگورستان سے باہر لے جا کر قتل کیا۔جب انگورستان کا مالک آوے گا تو ان باغبانوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ وے اسے بولے ان بدوں کو بُری طرح مار ڈالے گا اور انگورستان کو اور باغبانوں کو سونچے گا جوا سے موسم پر میوہ پہنچا ویں لے۔جب سے دنیا میں تمدن اور مل جل کر رہنے کا آغاز ہوا ہے اُس وقت سے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت چلی آرہی ہے کہ زمین میں جب ظلم وجور کا دور دورہ ہوتا ہے اور فساد غالب آجاتا ہے، تو ازن زندگی بگڑ جاتا ہے تو اللہ تعالی انسانیت کو بچانے اور عدل وانصاف قائم کرنے کے لئے اپنی طرف سے ہادی اور مرسل بھیجتا ہے حضرت آدم سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم تک ارسال رسل کے اس سلسلہ کو دنیا کا اکثر حصہ تسلیم کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ جس گناہ اور فساد کی روک تھام کے لئے یہ سلسلہ جاری ہوا کیا وہ گناہ اور فساداب ختم ہو گئے ہیں؟ قریباً تمام آسمانی کتب اس قسم کے گناہوں کی تفاصیل سے بھری پڑی ہیں جن کی وجہ سے بعثت انبیاء و مصلحین ہوئی اور اب بھی گنا ہوں اور فسادوں کے ایسے دور آتے رہتے ہیں اور سینکڑوں ایسی انسانیت سوز خرابیاں متی باب ۲۱ آیت ۳۳ تا ۴۱