تاریخ افکار اسلامی — Page 315
تاریخ افکا را سلامی ۳۱۵ حیثیت نہیں۔قرآن کریم میں مذکور جنوں سے مراد گرانڈیل پہاڑی وحشی اقوام ہیں۔وجی، نبی کے قلبی واردات کا نام ہے باہر سے کوئی چیز نازل نہیں ہوتی۔صفات باری ، صور کا پھونکا جانا ، حشر و نشر ، حساب و کتاب، میزان وصراط ، جنت و دوزخ سب استعارے اور تمثیل ہیں۔رویت باری نہ اس دُنیا میں ممکن ہے اور نہ آخرت میں۔معراج اور شق صدر کے واقعات دراصل خواب تھے بیداری کی حالت کا کوئی واقعہ نہ تھا۔مختلف جنگوں میں فرشتوں کے نزول کا جو ذکر قرآن کریم میں ہے یہ دراصل غیر معمولی نصرت الہی کے نزول سے استعارہ ہے۔شہداء کی زندگی سے مراد دُنیا میں نیک اور قابل تقلید مثال چھوڑ جاتا ہے۔حضرت عیسی کے بن باپ پیدا ہونے کا عقید ہ درست نہیں۔حضرت اسحاق کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ کی عمر یاس کی حد سے متجاوز نہ تھی۔اُن کی عمر ایسی ہی تھی جس میں عورتیں بالعموم بچہ جننے کے قابل ہوتی ہیں۔دُعا صرف عبادت ہے۔حصول مقاصد کے لئے اس کی تأثیر غیر مسلم ہے۔اصل چیز صرف صحیح تدبیر ہے۔چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹ دینا ضروری نہیں۔انسان جس کے حق میں چاہے جتنی چاہے وصیت کر سکتا ہے نہ وارث کے حق میں وصیت منع ہے اور نہ ساری جائیداد کی منع ہے۔روزہ کی بجائے فدیہ ایک عمومی سہولت ہے۔موجودہ بینکنگ کی طرز پرلین دین دبا نہیں۔سو دو ہی منع ہے جس کا رواج زمانہ جاہلیت میں تھا۔قرآن کریم کا کوئی حکم منسوخ نہیں۔تقلید ذہنی جمود اور عقلی تعطل کا نام ہے اس لئے اسے واجب قرار دینا غلط ہے۔قرآن کریم کے احکام کی دو قسمیں ہیں۔اصلی احکام اور محافظ احکام۔اصلی احکام ہمیشہ قانون فطرت کے مطابق اور غیر متبدل ہوتے ہیں۔محافظ احکام کا قانون فطرت کے مطابق ہونا ضروری نہیں اور نہ ہر حال میں ان کی پابندی لازم ہے مثلاً نماز میں اصل حکم توجہ الی اللہ ہے۔طہارت، نسل ، وضو، توجہ، قبلہ، قیام، رکوع ، سجدہ، قصور محافظ احکام ہیں ان کی پابندی ہر حال میں ضروری نہیں۔نصاریٰ کا ذبیحہ حلال ہے۔اسی طرح اگر و د پرندہ کو گلا گھونٹ کر مار دیں تو اُس کا کھانا بھی جائز ہے جو غیر مسلم مسلمانوں سے زیادتی نہیں کرتے ان کی جان و مال کے دشمن نہیں اور نہ ان کو ان کے بطن سے نکالتے ہیں ان سے موالات اور تعلقات استوار کرنے کی اجازت ہے۔صرف انہیں کفار سے تعلقات رکھنے کی ممانعت ہے جو ظلم کی راہ اختیار کرتے ہیں اور مسلمانوں سے بر سر پیکار ہیں۔ہر قائم اور قانون کی پابند حکومت کی اطاعت ضروری