تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 305 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 305

تاریخ افکارا سلامی اور اُسے درد ہوتا ہے یا اس کا کوئی عضو کٹ جاتا ہے تو دراصل مار، درد اور کٹنا یہ اللہ تعالی کا فعل ہے گو یا اللہ تعالی نے اسے ماردیا، در و پیدا کی یا عضو کاٹ دیا ہے البحریہ اور اُس کے نظریات یہ فرقہ بکر بن أخت عبدالواحد بن زیاد کا پیر و تھا۔بکر کے بارہ میں محدث ابن حبان کا قول ہے کہ یہ شخص دجال اور حدیثیں گھڑنے میں ماہر تھا۔كَانَ دَجَّالًا يَضَعُ الْأَحَادِيثِ ہے اس کا نظر یہ تھا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی ایک صورت اختیار کرے گا اور اسی صورت میں وہ بندوں کو نظر آئے گا اور اُن سے ہمکلام ہوگا۔بکر کے نز دیک گناہ کبیرہ کے مرتکب کو مسلم ، مومن، منافق ، مکذب سب کچھ کہا جاسکتا ہے اور وہ دائی جہنمی ہے۔اس کے خیال میں پیاز اور لہسن حرام ہے اور پیٹ میں گو گو یعنی فَرْقَرَةُ الْبَطْن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔افعال متولدة یعنی طبیعی افعال کے بارہ میں یہ اہل سنت سے متفق تھا اور کہا کرتا ما الله مخترع الألم عند الضرب - الضَّرَارِیہ اور اُس کے نظریات یہ فرقہ ضرار بن عمرو کا پیر د تھا۔ضرار کا نظریہ یہ تھا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک چھٹی حس بھٹے گا جس کی وجہ سے وہ اسے دیکھ سکیں گے۔ضرار لائِمَّهُ مِنْ قُرَیشِ “ کی روایت کو درست نہیں مانتا تھا اس لئے وہ امامت اور خلافت کے لئے قریش کی تخصیص کا قائل نہیں تھا۔ہے الْمُرْجِنَہ اور اُس کے نظریات مرجئہ مسلمانوں کا وہ فرقہ ہے جو اعمال کو جزو ایمان نہیں مانتا بلکہ زائد از ایمان تسلیم کرتا ہے۔یہ لفظ ارجاء سے مشتق ہے جس کے معنے پیچھے رکھنے اور دوسرا درجہ دینے کے ہیں۔چونکہ یہ فرقہ اعمال کو ایمان سے پیچھے رکھتا ہے اور ایمان کے مقابلہ میں اسے دوسرا درجہ دیتا ہے یا یہ تسلیم کرتا ہے کہ اعمال الفرق بين الفرق ۱۵۶ میزان الاعتدال صفحه ۳۴۵ - الفرق بين الفرق صفحه ۱۵۹ الفرق بين الفرق صفحه ۱۶۰ خوارج کا نظریہ بھی یہی تھا۔الفرق بين الفرق صفحه ۱۶۱ اعتقادات فرق المسلمين والمشركين صفحه ۶۹