تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 297 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 297

تاریخ افکا را سلامی ۲۹۷ جُزْءٌ لَا يَتَجَری ( مزید تقسیم نہ ہو سکنے والی چیز ) کو دیکھا نہیں جاسکتا۔نہ اُسے انسان دیکھ سکتا ہے اور نہ خدا کیونکہ دیکھنے کے لئے کسی چیز کا رنگدار ہونا ضروری ہے اور جُزء لا يتجزی کا کوئی رنگ نہیں ہوتا لیے - النظامیہ اور اُس کے نظریات ید فرقہ ابو اسحاق بن سیارا النظام معتزلی کا پیرو تھا۔نظام ابو الهذيل کا بھانجا اور مجمی النسل تھا۔اس نے بھی کئی نئے نظریات اختراع کئے جن میں سے چند یہ ہیں۔جو باتیں انسان کی بہبود اور اس کی مصلحت سے تعلق رکھتی ہیں اللہ تعالی ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ عادل ہے اور انسانی بہبود کو نظر انداز کر دینا عدل کے خلاف ہے۔پس نظام کے نزدیک نعیم الجنت میں سے ایک ذرہ بھی کم نہیں ہو سکتا اور جہنمیوں کے عذاب میں ایک ذرہ کا اضافہ بھی نہیں ہوسکتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کسی مومن کو دوزخ میں نہیں ڈال سکتا۔مثلاً ایک بچہ دوزخ کے کنارے کھڑا ہے وہ خود دو زخ میں کو دسکتا ہے فرشتے اُسے دوزخ میں دھکا دے سکتے ہیں ، لیکن خدا ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اس کی صفت عدل کے خلاف ہے اس طرح نہ وہ بیٹا کو اندھا کر سکتا ہے اور نہ تندرست کو لو لا - لانه لَيْسَ هُوَ قَادِرٌ عَلَى الظُّلْمِ وَالكَذِبِ۔اس کے بر خلاف بصری معتزلہ کا نظریہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے۔فَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ قَادِرًا عَلَى الظُّلْمِ وَالْكِلْبِ كَمَا هُوَ قَادِرٌ عَلَى الْعَدْلِ وَالصّدقِ اہل سنت و الجماعت کے ایک گروہ کا نظریہ یہ ہے کہ إِنَّهُ قَادِرٌ عَلَى الظلم والكذب وَلَكِنَّهُ لَا يَفْعَلُ إِيَّاهُمَا لِقَبْحِهِمَا - مانویہ کا نظریہ بھی نظام کے نظریے سے - ملتا جلتا ہے کیونکہ وہ بھی یہ مانتے ہیں کہ نور خیر کے سوا کچھ نہیں کر سکتا اور ظلمت صرف مصد بشر ہے الى إنَّ النُّورَ لَا يَفْعَلُ إِلَّا خَيْرًا وَلَا يَقْدِرُ عَلَى الشَّرَ وَإِنَّ الظُّلَمَةَ لَا تَسْتَطِيعُ فِعْلَ الْخَيْرِ لَانَّهَا لَا تَقْدِرُ إِلَّا عَلَى الشَّرِ - نظام کا یہ نظریہ بھی تھا کہ ایک جنس بیک وقت دو متضاد کام نہیں کر سکتی مثلاً یہ ممکن نہیں کہ آگ گرم بھی کرے اور ٹھنڈا بھی یا برف ٹھنڈا بھی کرے اور گرم بھی۔اسی نظریہ کے مطابق نظام کے نزدیک اسی نظریہ کے تحت بر صغیر پاک و ہند کے دیوبندی علماء امکانِ کذب باری کے قائل ہیں یعنی چونکہ خدا قادر مطلق ہے اس لئے وہ جھوٹ بولنے پر بھی قادر ہے۔اسی طرح امکان نظیر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسئلہ بھی ان کے ہاں موضوع بحث رہتا ہے۔الفرق بين الفرق صفحه ۹۵ الفرق بين الفرق صفحه ۹۲