تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 288 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 288

تاریخ افکا را سلامی MAA ٩ - الْإِبَاضِيَّه یہ فرقہ عبد اللہ بن اباض کا پیرو تھا۔اس فرقہ کا نظریہ یہ تھا کہ دوسرے مسلمان جوان کے مخالف ہیں وہ نہ مومن ہیں نہ مشرک بلکہ کافر ہیں تا ہم با وجود کافر ہونے کے ان کی شہادت مقبول ہے اور اُن کے خون حرام ہیں نیز ان سے نکاح جائز ہے اور با ہمی تو ارث بھی درست ہے اور ان کے اموال لوٹنا جائز نہیں۔تاہم ان کے گھوڑے اور ہتھیا را پنے قبضہ میں لئے جاسکتے ہیں۔فقه اباضیہ کو ایک قابل مطالعہ علمی سرمایہ تسلیم کیا گیا ہے۔اباضیہ کی ذیلی فرقوں میں بٹ گئے۔ان میں با ہمی تکفیر اور تفرقہ بازی کا کس قد رزو راور شوق تھا اُس کی ایک دلچسپ مثال یہ ملتی ہے کہ ایک اباضی خارجی نے جس کا نام ابراہیم تھا کچھ لوگوں کو اپنے گھر دعوت پر بلایا اس دوران اُس نے کسی کام کے لئے اپنی لونڈی کو کہیں بھیجا لیکن اُس نے واپس آنے میں کچھ دیر کر دی۔اس وجہ سے ابراہیم غصہ سے لال پیلا ہو گیا اور قسم کھائی کہ وہ اس لونڈیا کو اعراب یعنی بدؤوں کے پاس بیچ دے گا۔حاضرین میں سے ایک شخص نے جس کا نام میمون تھا اعتراض کیا کہ ایک مومن لڑکی کو کافروں کے ہاتھ بیچنا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ابراہیم نے اصرار کیا کہ یہ جائز ہے۔کچھ لوگ ابراہیم کے طرف دار بن گئے اور کچھ نے میمون کی حمایت کی اور بعض غیر جانبدار رہے۔ابراہیم کے حمایتی ابراهیمیہ “ کہلائے۔میمون کے حمایتی میمونیہ اور غیر جانبدار 33 واقفیہ“ کے نام سے مشہور ہوئے۔اس طرح اس معمولی سی بات کی وجہ سے تین فرقے بن گئے جو طرح اس معمولی یا ایک دوسرے کو کافر کہتے تھے ہے اباضیہ کا یہ نظریہ بھی تھا کہ اگر فرقے کا قائد گناہ کا مرتکب ہو او رلوگ اسے قیادت سے بر طرف نہ کریں تو وہ قائد اور اس کے متبع سب کے سب کا فر ہو جائیں گے۔کے -١٠- الشبيبيه یہ بھی اباضی خوارج کا ایک ذیلی فرقہ ہے۔اس فرقہ کو بھی خاصی شان و شوکت حاصل ہوئی۔اس میمونیه فرقہ اس میمونی فرقہ سے الگ ہے جس کا ذکر شعیہ کے بالمقابل گزرچکا ہے دیکھیں صفحہ ۱۹۶۔اسی طرح باطنی تحریک کے بانی میمون بن دیصان سے بھی اس کا کوئی تعلق نہیں۔دیکھیں صفحہ ۱۹۶ کے صفحہ ۵ حصہ دوم بھی دیکھیں الفرق بين الفرق صفحه ۷۵۰۷۴