تاریخ افکار اسلامی — Page 287
تاریخ افکا را سلامی MAZ البتہ ان کا ایک نظریہ یہ تھا کہ بالغ ہونے کے بعد ہر انسان کو نئے سرے سے کلمہ پڑھنے کی دعوت دینی چاہیے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔اگر وہ یہ بات نہ مانے تو کافر ہو گا اور اگر مان لے تو مومن۔اس فرقہ کے نزدیک مخالف مسلمانوں کے اموال بطور نیمت لوٹ لینا جائز نہیں تھا۔الْخَازِمِية یہ فرقہ عام عقائد میں اہل السنت والجماعت سے متفق تھا۔البتہ عثمان علی، طلحہ اور زبیر وغیرہ کی تکفیر کرتا تھا۔--- الْحَمْزِيَّة یہ فرقہ حمزه بین اکرک کا بیر د تھا۔حمزہ کا اصل تعلق کجا ردہ خازمیہ سے تھا لیکن بعد میں اس نے بعض معتز لی نظریات اپنا لئے۔بایں ہمہ خوارج اور معتزلہ دونوں اس کو کافر کہتے تھے۔بارون الرشید کے زمانہ 179ھ میں حمزہ نے بغاوت کی اور مامون الرشید کے عہد میں اس کے فتنہ نے خطر ناک صورت اختیار کر لی۔اس نے خارجیوں کے دوسرے فرقوں کو بھی تہ تیغ کیا اور ہرات کے گردو نواح میں تباہی مچائی۔وہاں متعد دعباسی لشکروں سے اس کی مٹھیہ بھیٹر ہوئی اور انہیں پے در پے شکستیں دیں۔اسی دوران میں اس نے خراسان، کرمان بجستان اور کوہستان کے علاقوں پر غلبہ حاصل کر لیا۔مامون الرشید نے اس کے مقابلہ کے لئے اپنے فوجی سردار طاہر بن الحسین کو بھیجا۔متعد د جنگوں میں طرفین کے قریباً تیں ہزار افراد مارے گئے۔کرمان کے علاقہ میں بہت سخت جنگ ہوئی۔اس جنگ میں حمزہ کے ہزاروں مدد گار کام آئے اور وہ خود بھی زخمی ہو گیا اور بھاگتے ہوئے راستہ میں ہی مر گیا۔بہر حال ایک لمبے عرصہ تک حمزہ اور اس کا گروہ خلافت عباسیہ کے لئے دردسر بنا رہا ہے الشَّيْبَانِية یہ فرقہ شیبان بن سلمه الخارجی کا پیرو تھا۔دوسرے خارجی فرقے شیبان کو اس لئے کافر کہتے تھے کہ اُس نے ابو مسلم خراسانی کی مدد کی تھی۔ابو مسلم نے بنو امیہ اور کئی خارجی گروہوں کے ساتھ جنگیں لڑیں اور شیبان اس کے ساتھ ان جنگوں میں برابر شامل رہا ہے الفرق بين الفرق صفحه ٦٦۔۔الفرق بين الفرق صفحه ۶۹