تاریخ افکار اسلامی — Page 265
تاریخ افکا را سلامی الدَّرُوزِيهِ يا اَلدَّرْزِيَّه ۲۶۵ فاطمی خلیفہ حاکم بامر اللہ نے خُدائی کا دعویٰ کیا یا نہیں کیا اس بارہ میں اختلاف ہے لیکن یہ مسلمہ بات ہے کہ الحاکم ایک محتلون مزاج ، دیوانہ ذہن، خود بیں خلیفہ تھا اور اس بات کو پسند کرتا تھا کہ لوگ اُس کے سامنے سجدہ کریں تے چنانچہ اُس کے انہیں حالات کی وجہ سے اسماعیلیوں کا ایک گرو ہ اس بات کا دعویدار ہوا کہ حاکم الہ ہے یا الہ نے اُس میں حلول کیا ہے۔اس نظریہ کا سر گرم دا ما حمزہ بن علی الز ورنی اور محمد بن اسماعیل البخاری که رزی وغیر ہ تھے یہ سب کے سب قاری تھے اور ملوک محرس کی تالیہ کے بارہ میں فارسیوں کے جو نظریات ہیں یہ اُن سے متاثر تھے۔سے محمد بن اسماعیل الدرزی نے اس دعوت کو عام کیا ، کتابیں لکھیں، الحاکم کے مقربین میں شامل ہوا اور الحاکم کی چھاؤنی میں اس نظریہ کی خوب اشاعت کی اور مختلف داعیوں کو اپنا ہمنوا بنایا۔بعد میں یہ شخص مصر سے بھاگ کر شام کے پہاڑی علاقہ میں پناہ گزین ہوا اور یہاں اپنا مرکز قائم کیا اور اردگرد کے علاقہ میں اس نظریہ کو پھیلایا چنا نچہ اب تک لبنان او رحوران میں اُس کے پیر و موجود ہیں جو د روز یا درز یہ کہلاتے ہیں۔دروز ظہور توحید کے طور پر اپنا سال ۴۰۸ھ سے شروع کرتے ہیں۔یہی وہ سال ہے جس میں حمزہ بن علی الروزنی نے تالیہ الحاکم کے نظریہ کا اظہار کیا۔دروز کا فرقہ دو گروہوں میں منقسم ہوتا ہے۔روحانیوں اور شمانیوں۔روحانی گروہ کے تین درجے ہیں۔رؤسا، عقلاء اور آجاوید - رؤسا اسرار الدرزیہ کے کلید بر دار اورامین ہوتے ہیں۔عقلاء کے پاس داخلی اسرار کی مفاتیح ہوتی ہیں جن کا تعلق د روز کی تنظیم اور مذہبی تربیت سے ہے۔اجادیہ کے پاس اسرار ل الدرزية الخياطون والحاكمة الغوغاء من الناس۔اذا ظهر الحاكم في الطرقات خروا له سجدا و قبلوا الارض بين يديه ويقولون ان رُوحَ الْإِلهِ حلت في آدم ثم انتقلت الى الانبياء ثم الى الأئمة حتى استقرت في الحاكم - تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۳۵۸۲۳۵۵ ملخصا۔دعا الزوزنى الى عبادة الحاكم وقال إن الإله حَلَّ فيه وكان يرسله الحاكم لاخذ البيعة على الرؤساء على اعتقاده في الحاكم وقد شجع الحاكم هذا الداعي وانصاره - (تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۳۵۵) المدرزی کا لفظ اُردو میں عام ہے۔کپڑے سینے والے کو درزی کہتے ہیں۔