تاریخ افکار اسلامی — Page 261
تاریخ افکارا سلامی ۳۶۱ کرتے رہتے تھے ان داعیوں سے کئی اہل علم بھی متاثر ہوئے چنانچہ انہی میں سے ایک صاحب علم عیات بھی تھے جنہوں نے بعد میں اسماعیلی نظریات کے پھیلانے میں بہت سے کارنامے سرانجام دیئے فارس کے بڑے بڑے امراء کو اسماعیلیت کی طرف مائل کیا۔انہی میں سے ایک الحسین بن على المروروزی بھی تھا جس کا ہرات اور غور میں بڑا اثر رسوخ تھا۔چنانچہ اس کے ذریعہ ان علاقوں میں دعوت اسماعیلیہ کو خوب فروغ ملا۔خراسان میں ایک اور داعی ابو حاتم النیسا پوری الرازی نے بڑا کام کیا جو ایک مشہور شاعر بھی تھا۔اسی نے طبرستان، الدیلم ، اجیان اور ری میں اسماعیلی شیعیت کے بیج ہوئے لیے ان علاقوں میں دعوت کا انداز المغرب سے کچھ مختلف تھا چونکہ یہ علاقے مجوسیت، ہند کی یہ ہمیت اور یونان کے فلسفہ سے خاصے متاثر تھے۔تناسخ اور حلول کے نظریات بھی عام تھے اس لئے ان علاقوں میں کام کرنے والے داعی علمی انداز میں ان نظریات کی تائیدہ حمایت سے بھی خاصہ کام لیتے تھے۔ہے محمد بن احمد السلفی خراسان میں اسماعیلیوں کا ایک اور بڑا داعی تھا۔اس نے امیر خراسان نصر بن احمد السامانی کو بہت متاثر کیا۔اور بخارا تک اسماعیلیت کا اثر بڑھایا۔کہتے ہیں کہ نصر سامانی نے اسماعیلیوں کے ایک داعی الحسین بن علی المرور وزنی کو مروا دیا تھا۔محمد النعمی نے نصر سامانی پر زور دیا کہ یہ بڑا ظلم ہوا ہے اس لئے وہ الحسین کی ایک سو انیس دینار دیت ادا کرے جبکہ ہر دینار کے ساتھ ایک ہزار دینار کا افہ ہواور یہ دی جس کی کلمات کی کھانی بازار یا ری مر کے مالی امیر کو چھوائی گی جس اضافہ ہو اور یہ دیت جس کی کل مالیت ایک لاکھا انہیں ہزار دینا تھی مغرب کے فاطمی امیر کو بھجوائی گئی جس کی ہدایت میں یہ داعی کام کر رہے تھے۔ا بايعة جماعة من كبار رجال الدولة مثل الاصفر بن شيرويه امير قذوین و مروا دیج بن زیاد الديلمي ويوسف بن ابى الساج امير الرّى و انه فكر في خلع طاعة الخليفة المقتدر العباسي والدخول في طاعة الامام العلوى التاريخ الدولة الفاطميه صفحه ۴۱۹) الفرس يقولون ان الغلوتين وحدهم يملكون حق حمل التاج۔۔۔لكونهم وارثى آل ساسان من جهة امهم وهى شهر بانو ابنة يزدجرد الثالث آخر ملوك الفرس تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۴۱۸) وقد كان نصر بن احمد الساماني من اكبر معارضى المذهب الاسماعيلي نفس المصدر صفحه (۴۶۹