تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 252 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 252

تاریخ افکا را سلامی ۲۵۲ اپنے دوسرے بیٹے احمد ابو الشلعلع کو عراق کا علاقہ سپر د کیا او راپنے ایک اور بیٹے کے سپر دفارس کا علاقہ کیا عبداللہ کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا احمد ابو الشلعلع اس کا جانشین بنا۔یہ بھی اپنے باپ کی طرح بڑ انتظم اور ماہر علوم تھا، کئی زبانیں جانتا تھا۔اس نے یمن کی طرف رستم بن الحسین بن خرج بن حوشب کو داعى الدعاة بنا کر بھیجا جو بڑا قابل اور مخلص دائی تھا۔اس کے بعد اُس نے الحسن بن احمد ابو عبد اللہ الشیعی الصمعانی کو تیار کیا کہ وہ واپس سمن جائے اور ابن حوشب سے اسماعیلی دعوت کے طور طریق اور اس کے فرائض سیکھے۔اس کے بعد مغرب (یعنی شمال مغربی افریقہ ) میں جا کر یہ میری اقوام میں دعوت پھیلائے۔ابو عبد اللہ احمد کا زیادہ زور دولت عباسیہ کے مرکز بغداد سے دور کے علاقوں پر تھا کیونکہ ایک تو دور کے علاقوں میں حکومت کی گرفت کمزور تھی۔دوسرے وہاں کے مقامی حکام کے ظلموں سے لوگ تنگ آئے ہوئے تھے۔تیسرے ان کی تختی دل صاف تھی اور دین کے مسائل کا ان کو بہت کم علم تھا اور چوتھے آل بیت نبوی سے ان کی عقیدت بوجود مشہور و معروف کے تھی اور بر بری لڑائی میں بھی بڑے بہادر تھے۔بہر حال ابو عبد اللہ الہی یمن سے ہو کر بمطابق مشورہ ابن حوشب پہلے مکہ مکرمہ آیا وہاں سے حاجیوں کے ایک قافلہ کے ساتھ مصر آ گیا۔اس قافلہ میں کتامہ کے لوگ بھی تھے جو مغرب میں پر بر کا ایک محفوظ قبیلہ تھا اور پہلے سے شیعہ اثرات سے متاثر تھا۔کنامہ کے حاجی ابو عبد اللہ الشیعی کی فصیح اللسانی اور شیریں بیانی سے خاصے متاثر ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ انہی کی درخواست پر ابوعبداللہ الشیعی نے کنامہ کے کے علاقہ میں قیام کیا اور حالات سازگار دیکھ کر وہاں ایک محفوظ جگہ فج الاخیار کو اپنی دعوت اور تبلیغ کا مرکز اور دارالہجرت قرار دیا۔اس نے مہدی منتظر کے ظہور کے بارہ میں بڑے سہانے خواب وہاں کے لوگوں کو دکھائے۔یہ لوگ پہلے ہی وہاں کے مقامی عرب حکام سے تنگ آئے ہوئے تھے وہ ابو عبد اللہ اشمی کی تفصیل کے لئے دیکھیں تاریخ الدولة الفاطمية صفحه ۴۸ حاشيه ذكر ابن الاثير ان جعفر الصادق بعث دَاعِيين وقال لهما ان المغرب ارض بور فاذهبا فاحرثا حتى يجى صاحب البذر الخ۔تفصیل کے لئے دیکھیں تاریخ الدولة الفاطمية صفحه ۴۴ تا ۴۷ سلمیہ کے قائدین نے اپنے داعیوں کے ذریعہ مختلف علاقوں میں دارالہجرت قائم کروائے انہی میں فسح الاخیار بھی ایک مارالہجرت تھا۔(تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۴۹)