تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 251 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 251

تاریخ افکارا سلامی ۲۵۱ دلائل مہیا کئے۔یہ خفیہ تحریک علمی تصورات اور سری اقدامات کا مجموعہ تھی۔اس تحریک کے قائدین نے بعض علوی اور ثرا سانی عناصر کی طرح کھلم کھلا حکومت کے مقابل آنے کی کوششوں کو ترک کر دیا اور خفیہ رہ کر مختلف قسم کی علمی اور تنظیمی سازشوں کے ذریعہ وہ اپنے مقاصد کی طرف بڑھے اور بڑی حد تک اپنے ہدف کے حاصل کرنے میں کامیاب رہے تا ہم چونکہ اسلامی نقطہ نظر سے اس تحریک کی کوئی بنیا د نہ تھی اور نہ عدل وانصاف کے قیام اور ظلم و جور کے اختتام کے لحاظ سے اس کے قائدین اپنے مخلص تھے اس لئے جب عوام نے کامیابی کے بعد اس تحریک کے طور دیکھے تو ان کی ساری امیدیں ختم ہو گئیں اور مہدویت کے نظریہ کے تحت جس امن وامان ، خوشحالی اور فارغ البالی کے اُن کو وعدے دیئے گئے تھے وہ سب بڑی حد تک قریب ثابت ہوئے۔اس طرح عوام کی تائید سے محروم ہو جانے کی وجہ سے کچھ عرصہ بعد ہی اس تحریک کا جوش و خروش ختم ہو گیا اور پھر آہستہ آہستہ چند نشانات چھوڑنے اور امت مسلمہ کے بہت سے نقصانات کا باعث بنے کے بعد یہ تحریک اپنی موت آپ مر گئی ہے دعوت أَسْمَاعِلِيه کا فروغ رہی الاسماعیلی تحریک کے فروغ اور عروج کی داستان تو اس کا مختصر بیان یہ ہے کہ اس تحریک کے قائدین نے سلمیہ کو مرکز بنانے کے بعد مختلف اطراف میں اپنے دائی روانہ کئے۔یہ دائی بڑے قابل اور اپنے نظریہ کے بارہ میں بڑے مخلص تھے۔عراق میں اس تحریک کا داعی محمد بن الحسن بن جبار نجار الملقب بدندان پہلے سے ہی کام کر رہا تھا اُس نے عبد اللہ بن میمون کو بہت سی مالی امداد دی اور اس کے امداد دی اورام نظریات کو پھیلایا۔عرب او را اسلام دشمنی میں دونوں برابر تھے ہے عبد اللہ نے سلمیہ کو اپنا مرکز بنانے کے بعد اپنے بیٹے الحسین کو رئیس الدعوت کا عہدہ دیا اور قد بدأ النزاع الديني بين السنيين والشَّيعِيِّين۔۔۔في عصر في عصر متقدم لكن ظهر بصورة اشد عداء في الاجيال التَّالِيَةِ حِينَ أَحَمدُ كُلُّ حزب يلعن الحزب الآخر حتى الشيعة ارغموا على دفع الجزية كما أرغم السنيون على دفعها حينا آخر في عهد الفاطميين - تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۳۷۶ بحواله رسائل بديع الزمان الهمدانی صفحه ۴۲۴ - ورسائل الحاكم بامر الله دار الكتب المصريه بالقاهره مخطوطات الشيعة رقم صفحه ۲۰ - ورقه نمبر (١١) تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۴۱۰۴۰