تاریخ افکار اسلامی — Page 245
تاریخ افکا را سلامی ۲۴۵ فاطمی حکومت کے قیام کے بعد نو قرار پائے۔ہر درجہ کے مرید کی منتقل د سمجھ کو پر کھے بغیر نہ اُسے اگلے درجہ میں جانے دیا جاتا اور نہ اُسے اس درجہ کی خبر ہونے دی جاتی تھی کہ اس کا تعلیمی اور عملی نصاب کیا ہے۔لے عبد اللہ ۲۷۴ ھ کے قریب فوت ہوا تو اس کا بیٹا احمد جانشین بنا جس کی کنیت ابو الشلعلع تھی۔احمد نے تحریک کو منظم کرنے اور اسے وسیع کرنے میں بڑی مہارت دکھائی۔اُس نے اپنا جانشین یا ولی عہد اپنے بھتیج سعید بن الحسین کو بنایا۔یہی سعید بعد میں عبید اللہ المہدی کے نام سے شمال مغربی افریقہ میں دولت عبید سیہ کا بانی بناتے بہر حال امام اسمعیل بن امام جعفر الصادق کی نسل سے ائمہ مستورین تھے یا دیسائیوں نے اپنے طور پر اس تحریک کو منظم کیا تھا۔بنیادی طور پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اصلا دیکھنا یہ ہے کہ اس تحریک کا بنیادی مقصد کیا تھا اور تحریک نے کن ذرائع سے کام لے کر اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔اسماعیلی نظریات اور عقائدہ اسماعیلی خود بڑی حد تک اپنے نظریات اور عقائد کو چھپاتے ہیں۔پھر یہ مختلف ادوار سے گزرے ہیں اس وجہ سے بھی عقائد میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔دوسروں نے جو کچھ بیان کیا ہے اُس میں تعصب کی ملونی بھی ہو سکتی ہے۔ان حالات میں حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ عقائد ونظریات کے بارہ میں جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے و ہ سوفیصد درست اور مطابق واقعہ ہے تاہم کسی حد تک خود اسماعیلیوں کے اپنے بیان کے مطابق اور کچھ ان دستاویزات کے لحاظ سے جو مختلف ذرائع سے اہل علم کے سامنے آئی ہیں اور جو کچھ غیر جانبدار مؤرخین نے بیان کیا ہے اسماعیلیوں کے جن عقائد اور نظریات کا علم ہوسکا ہے وہ یہ ہیں۔ا۔ائمہ اہل بیت مقدس اور معصوم ہیں۔دین کا علم ان کو خدا کی طرف سے ملتا ہے اس لحاظ سے وہ کسی کے شاگر دنہیں ہوتے بلکہ دنیا بھر کے وہ استاد اور دینی رہنما ہوتے ہیں۔نیز ائمہ بھی ہوتے ہیں۔-۲ پہلے چھ ائمہ یعنی حضرت علی، حضرت حسن ، حضرت حسینؓ ، حضرت زین العابدین ، حضرت محمد باقر اور حضرت جعفر صادق کو شیعہ اثنا عشریہ بھی امام مانتے ہیں اور اسماعیلی شیعہ بھی امام مانتے تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۶۱۰۵۹،۴۲ تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ٦١ دعائم الاسلام جلد ۱ صفحه ۵۴ - العقيدة والشريعية صفحه ۲۱۵