تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 234 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 234

تاریخ افکا را سلامی ۲۳۴ ابو الخطاب نے امام جعفر کی وفات کے بعد خودالہ ہونے کا دعویٰ کیا اُس کے پیرو کہا کرتے تھے کہ إِنَّ جَعْفِرًا إلهُ وَلَكِنَّ اَبَا الْخِطَابَ اَفْضَلُ مِنْهُ بَلْ هُوَ أَفْضَلُ مِنْ عَلِي - ابو الخطاب کو عباسی والی عیسی بن موسیٰ نے گرفتار کر کے سُولی دے دیا۔خطابیہ کا یہ نظریہ بھی تھا کہ اگر ان کے ہم عقیدہ کو فائدہ پہنچ سکتا ہو تو اُس کے حق میں اور اس کے مخالف کے خلاف جھوٹی گواہی دینا کار ثواب ہے۔خطابیہ کا یہ نظریہ ہے کہ ہر زمانہ میں ایک امام ناطق ہوتا ہے اور دوسرا امام صامت۔ناطق کی وفات کے بعد صامت نا طلق بن جاتا ہے اور کوئی دوسرا صامت کے درجہ پر فائز ہو جاتا ہے۔مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم امام ناطق تھے اور علی امام صامت اور حضور کی وفات کے بعد علی امام ناطق بن گئے۔اسی طرح امام جعفر اپنے عہد میں امام ناطق تھے اور ابو الخطاب امام صامت۔پھر امام جعفر کی وفات کے بعد وہ امام ناطق بن گیا۔خطابیہ تناسخ کے قائل اور قیامت کے منکر تھے۔صحابہ کرام کی تکفیر کرتے اور اباحت کے نظریہ پر عمل پیرا تھے۔الْغُرَابِیہ۔اس فرقے کا عقیدہ تھا کہ اصل میں جبرائیل حضرت علی کی طرف وحی لائے تھے لیکن اُن کی شکل چونکہ محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم ) سے بہت ملتی تھی سکے۔اس لئے جبرائیل کو دھو کہ لگ گیا اور انہوں نے علی کی بجائے محمد پر وحی اتار دی اس لئے اصل رسول علی اور اُن کی اولاد ہے چونکہ یہ لوگ علی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل کی مشابہت کے لئے الغراب بالغراب والذباب بالذباب کی تمثیل استعمال کیا کرتے تھے اس لئے ان کا نام غرابیہ پڑ گیا۔یہ فرقہ اس مزعومہ غلط وحی کی وجہ سے حضرت جبرائیل سے نفرت کا اظہار کرنا تھا ہے۔ل الفرق بين الفرق صفحه ۱۸۸ دعائم الاسلام صفحه ۶۳ دعائم الاسلام صفحه ۶۲ الفرق بين الفرق صفحه ۱۸۸ تا ۱۹۰ - فرق الشیعه صفحه ۴۲، ۴۴ ے یہ بھی یادر ہے کہ آنحضرت مہ جب مبعوث ہوئے تو اس وقت علی کی عمر دس سال تھی اور آنحضرت علی کی عمر چالیس سال۔الفرق بين الفرق صفحه ۱۹۰