تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 233 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 233

تاریخ افکا را سلامی - الجناحيه- یہ فرقہ عبد الله بن معاویہ بن عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب کا پیر د تھا۔اس سے پہلے یہ گزر چکا ہے کہ امام محمد بن الحنفیہ کے بیٹے ابو ہاشم کے وصی ہونے کا امام عبد اللہ مذکور کو دھوئی تھا۔یہ بڑے خطیب اور صحیح البیان بزرگ تھے۔بہت سے لوگوں نے ان کی بیعت اطاعت کی اور یہ فارس او را صفہان کے وسیع علاقوں پر قابض ہو گئے لیکن یہ غلبہ عارضی ثابت ہوا۔ابومسلم خراسانی کے ہاتھوں ان کے اتباع شکست کھا گئے اور خود عبد اللہ اس کے قید خانہ میں بحالت قید فوت ہوئے۔امام عبد اللہ کی وفات کے بعد بعض زندیق طبع لوگوں نے ان کے پیرؤوں کو گمراہ کیا۔بہر حال ان کے اتباع کا نظریہ تھا کہ خدا کی روح مختلف انبیاء اور ائمہ میں حلول کرتی اور منتقل ہوتی ہوئی امام عبد اللہ میں آبسی تھی۔جناحيه اباحت کے بھی قائل تھے چنانچہ شراب، زنا ، لواطت اور دوسرے محرمات کو جائز سمجھتے تھے اور ہر قسم کی عبادت سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔یہ اپنے ان نظریات کے درست ہونے کا استدلال اس آیت کریمہ سے پیش کرتے تھے۔لَيْسَ عَلَى الَّذِینَ آمَنوا وَعَمِلُوا الصلحت جناح فيما خلعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَ آمَنُوا الآية - اس آیت میں چونکہ جناح کا لفظ آیا ہے اس لئے اس فرقہ کو اس آیت سے استدلال کرنے کی وجہ سے جناحیہ کہا گیا ہے۔یہ فرقہ احکام شریعت کی تاویل کرتا تھا مثلاً کہتا تھا کہ صلوۃ سے مراد ائمہ اہل بیت کی محبت موالات اور ان کی اطاعت ہے اور محرمات سے مراد ان کے دشمنوں سے بغض اور نفرت ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ فرقہ صحابہ کرام سے شدید بغض رکھتا تھا۔یہ فرقہ تناسخ کا بھی قائل تھا۔ہے الخطابيه یہ فرقہ ابو الخطاب محمد بن ابی زینب کا پیرو تھا۔ابو الخطاب امام جعفر صادق کا مقرب شاگر درہا تھا۔ان کی وفات کے بعد اس نے دعویٰ کیا کہ وہ امام جعفر کا نا ئب ہے۔امام جعفر کی زندگی میں ہی ابو الخطاب یہ عقید ہ ظاہر کرنے لگا کہ ائمہ اہل بیت نبی ہیں پھر کہا کہ وہ اللہ ہیں۔حسن حسین اور ان کی اولاد ابناء الله ہے۔ابو الخطاب کے اس قسم کے باطل عقائد کا جب امام جعفر کو علم ہوا تو انہوں نے اُسے ملعون قرار دیا او راپنی مجلس سے نکال دیا۔المائدة : ۹۴ الفرق بين الفرق صفحه ۱۸۸ - فرق الشيعة صفحه ٣٩