تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 213 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 213

تاریخ افکا را سلامی شیعہ امامیہ کئی ذیلی فرقوں میں منقسم ہیں جن میں سے بعض کی تفصیل درج ذیل ہے۔- المُحَمديه - یہ فرقہ حضرت علی ، امام حسن ، امام حسین ، امام حسن مثنی او را امام عبد اللہ کے بعد محمد النفس التركية بن عبد اللہ بن حسن المعنی بن حسن بن علی کی امامت کا قائل تھا اور ان کو آخری امام اور مہدی منتظر مانتا تھا یعنی ایسا مہدی جو نظروں سے غائب ہو گیا ہے اور آئندہ کسی وقت ظاہر ہوگا۔وہ ظلم و جور کو ختم کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔یہ فرقہ امام محمد کو اس حدیث کا مصداق قرار دیتا تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔مہدی کا نام دہی ہوگا جو میرا نام ہے یعنی محمد اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام کی طرح عبد اللہ ہوگا۔اس فرقہ کے نزدیک امام محمد نہ قتل ہوئے ہیں اور نہ طبعی موت مرے ہیں بلکہ نجد کے ایک پہاڑ میں پناہ گزیں ہیں ، مناسب وقت میں ظاہر ہوں گے اور ساری دنیا پر غلبہ حاصل کرلیں گے۔امام محمد بن عبد اللہ اور ان کے دو بھائی ابراہیم او را در لیس بڑے پائے کے بزرگ گزرے ہیں۔علم و زہد میں یکتا تھے۔اس وقت کے قریباً سارے محدثین اور فقہاء اُن سے عقیدت رکھتے تھے اور ان کے حامی تھے۔امام محمد مدینہ منورہ میں عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کے خلاف اُٹھے کیونکہ منصور اُن کے قتل کے درپے تھا۔یہ تجاز کے سارے علاقے پر قابض ہو گئے تھے اور ان کے بھائی امام ابراہیم نے بصرہ پر غلبہ حاصل کر لیا تھا۔دوسرے بھائی اور لیس بلا د مغرب میں غالب آئے لیکن یہ ساری کامیابی عارضی ثابت ہوئی اور تینوں بھائی مارے گئے۔کہا جاتا ہے کہ ان ائمہ کی حمایت کی وجہ سے ہی امام مالک اور امام ابو حنیفہ دونوں ابو جعفر منصور کے زیر عتاب آئے امام محمد کے والد امام عبد اللہ کو مع خاندان ابو جعفر منصور نے قید کر لیا اور انہیں بڑی اذیتیں دیں اور وہ اور ان کے خاندان کے بعض افراد قید خانہ میں ہی سختیاں جھیلتے ہوئے فوت ہو گئے۔امام محمد بن عبد اللہ کی شہادت کے بعد ان کے ایک عقیدت مند المُغِيرَة مِنْ سَعِيدِ الْعَجَلِی نے یہ دعویٰ کیا کہ محمد قتل نہیں ہوئے بلکہ غائب ہو گئے ہیں مناسب وقت میں ظاہر ہوں گے۔جابر بن یزید بھی کا نظر یہ بھی یہی تھا گویا ان کے نزدیک امام محمد مہدی منتظر ہیں۔جعفی کہا کرتا تھا کہ قیامت سے پہلے دنیا کے سب مُردے زندہ کر کے واپس لائے جائیں گے تا کہ مہدی کی شان و شوکت اور عظمت کو دیکھ سکیں لیے الفرق بين الفرق صفحه ۳۹ فرق الشیعه صفحه ۶۲ بن