تاریخ افکار اسلامی — Page 201
تاریخ افکا را سلامی +1 اپنی پیاری بیٹی فاطمہ ان کو بیاہ دی اور اسی ذریعہ سے آپ کی نسل آگے چلی۔کو یا مسلمانوں میں حضور میلے کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار حضرت علی تھے اس لئے وہ آپ ﷺ کی نیابت کے زیادہ حقدار ہیں۔كَانَ عَلِيٌّ أَخَا النَّبِي الا بالله بِالْمُؤاخَاةِ الدِّينِيَّةِة - جب حضور ﷺ نے مدینہ منورہ میں ٣- مسلمانوں میں مواخات کی تحریک جاری کی تو حضور نے حضرت علی کو اپنا دینی بھائی بنایا یے كَانَ عَلِيٌّ خَلِيْفَتَهُ عَلَى وَدَائِعِه - ہجرت کے وقت آپ نے حضرت علی کو اپنے پیچھے اپنے نائب کے طور پر چھوڑا تا کہ علی و دامانتیں اُن کے مالکوں تک پہنچائیں جو انہوں نے حضور کے پاس رکھوائی ہوئی تھیں۔۵- كَانَ عَلِيٌّ خَلِيفَتَهُ فِي أَهْلِهِ - حضرت علیؓ حضور کے گھریلو معاملات کے نگران اور ذمہ دار تھے اور اس لحاظ سے ایک گونہ آپ کے نائب تھے۔- كَانَ عَلِيٌّ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى" - یعنی جو مقام حضرت موسی کی نسبت سے ہارون کا تھا وہ مقام حضور کی نسبت سے حضرت علی کا تھا۔كَانَ عَلى بَاب مَدِينَةِ العِلم یعنی آنحضرت ﷺ نے آپ کے حق میں فرمایا آنا مَدِينَةُ العلم وعلى بابها كو يا حضور نے حضرت علی کو اپنے روحانی علوم کا حامل قرار دیا جس میں یا شارہ تھا کہ آئندہ علوم نبوت حضرت علی کے واسطہ سے لوگوں تک پہنچیں گے اور یہ فیضان الہی اُن کے ذریعہ جاری ہوگا۔کے كَانَ عَلِيٌّ اَزْهَدَ الصَّحَابَةِ یعنی حضرت علی بڑے عابد ، زاہد ، قناعت پسند اور عدل و انصاف کے دلدادہ تھے۔- كَانَ عَلِيٌّ أَعْلَمَ الصَّحَابَةِ یعنی حضرت علی روحانی علوم میں سب صحابہ سے آگے تھے اور قیادت دینی اور امامت کے لئے علمی فوقیت اصل معیار ہے۔(تاريخ الشيعة صفحه ۱۸، تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ۳۳ - جبکہ طبقات ابن سعد میں ہے کہ آپ نے علی اور سہیل بن حنیف کے مابین مواخات کرائی تھی۔طبقات جلد ۳ صفحه ۲۳) (حضرت ہارون حضرت موسیٰ کی زندگی میں ہی وفات پاگئے تھے۔ففكّر ) ) کیا شہر کا ایک ہی دروازہ ہوا کرتا ہے؟ نیز حدیث أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِآتِهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُم بھی قابل غور ہے۔(مشکوۃ کتاب المناقب باب مناقب صحابة)