تاریخ افکار اسلامی — Page 196
تاریخ افکارا سلامی 194 اُمت مسلمہ کے دوسرے مختلف فرقے اہل السنت والجماعت کے علاوہ باقی فرقوں کو علی الا جمال دو قسموں میں منقسم کیا جاسکتا ہے۔۱۔سیاست کی بنیا د پر فرقے جیسے شیعہ اور خوارج وغیرہ۔-۲- عقائد اور نظریات کی بنیاد پر فرقے جیسے معتزلہ اور مرحلہ وغیرہ۔تاریخی لحاظ سے شیعہ فرقہ سب سے پرانا ہے۔اس کے بعد خوارج کا نمبر آتا ہے۔اس کے بعد معتزلہ اور مرجئه کا۔زنادقہ بحیثیت فرقہ کافی عرصہ بعد نمایاں ہوئے اور مذکورہ بالافرقوں میں گڈمڈ ہوتے رہے۔وہ صوفیہ جو حلول اور اباحت کے قائل ہیں ان کا شمار بھی بحیثیت فرقہ اہل السنت سے الگ ہوتا ہے۔جیسے حلاجیه جو مشہور صوفی منصور حلاج کے پیرو تھے۔اس کے بعد ہر بڑ افرقہ کئی ضمنی فرقوں میں بٹ گیا لیکن ان میں سے اکثر کی حیثیت برائے نام تھی۔فرقہ پرستی اور تحزب کا مضحکہ خیز انداز بعض اوقات بڑے مضحکہ خیز طریقے سے فرقہ بندی کی مثالیں ملتی ہیں مثلاً۔دو شخص تھے ایک کا نام شعیب تھا اور دوسرے کا میمون میمون نے شعیب سے کچھ رقم قرض لی۔ایک مدت کے بعد شعیب نے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا تو میمون نے کہا اگر اللہ چاہے گا تو ادا کر دوں گا۔شعیب نے کہا کہ اللہ تعالی چاہتا ہے اور اُس کا حکم ہے کہ قرض حسب وعدہ ادا کیا جائے۔اس پر میمون نے جواب دیا کہ اگر اللہ چاہتا تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ میں قرض ادا نہ کر چکا ہوتا۔اللہ کی مشیت تو پوری ہو کر رہتی ہے۔آخر یہ بحث اتنی بڑھی کہ دو فرقے پیدا ہو گئے جو شعیب کی حمایت کر رہے تھے وہ شعیبیہ کہلائے اور جو میمون کے عيبيك طرف دار تھے وہ میمونیہ کے نام سے مشہور ہوئے۔یہ دونوں خوارج سے تعلق رکھنے والے فرقے ہیں۔اس طرح ایک فرقہ سے کئی نئے فرقے بنتے چلے گئے۔شیعہ خوارج اور معتزلہ کے کئی فرقے صرف ن