تاریخ افکار اسلامی — Page 119
تاریخ افکار را سلامی 119 بارآور کیا، آپ کی خواہش کو شرف قبولیت بخشا۔آپ کے شاگردوں کو بڑے بڑے عہدے ملے اور وہ ان عہدوں کے اہل ثابت ہوئے اور تاریخ ان کے کارناموں پر شاہد ناطق ہے۔حضرت امام ابو حنیفہ کا فقہی منہاج یہ تھا کہ سب سے پہلے قرآن کریم پر غور کرتے اور اس سے رہنمائی حاصل کرتے۔اگر قرآن کریم میں تصریح نہ ملتی تو سنت ثابتہ کی پابندی کرتے۔اگر سنت میں وضاحت نہ ہوتی تو پھر صحابہ کے اجتماعی عمل کی پیروی کرتے اور اگر مسئلہ زیر غور کے بارہ میں ان کا کوئی اجتماعی عمل معلوم نہ ہوتا تو پھر صحابہ کے مختلف اقوال میں سے اس قول کو اختیار کرتے جو ان کی سمجھ کے مطابق قرآن کریم یا سنت ثابتہ کے عمومی منشاء کے قریب تر ہوتا۔اس کے بعد دوسرے ذرائع علم و استنباط مثلاً قیاس، استحسان اور عرف وغیرہ کو آپ اختیار کرتے اور استخراج مسائل وغیرہ کا فریضہ سرانجام دیتے۔تدوین فقہ کے یہی ذرائع آپ کے سامنے تھے اور انہیں ذرائع کو اختیار کرنے کی آپ نے اپنے شاگردوں کو تلقین کی ہے آپ ہمیشہ کہا کرتے کہ ہم نے اپنی سمجھ کے مطابق مذکورہ بالا ماخذ سے مسائل مستنبط کئے ہیں، اگر کوئی اور اس سے بہتر استنباط اور اجتہاد پیش کرے تو ہم اس کی پیروی کریں گے اور اپنی رائے پر ہمیں اصرار نہیں ہو گا۔ستم گر آپ نے کسی روایت کا انکار کیا یا وہ نظر اندا ز ہوئی تو اس کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ وہ روایت بوجوہ ان کے نزدیک ثابت نہیں تھی یا زیادہ ثقہ روایت ان کے علم میں تھی یا ایسی کوئی روایت ان کے علم میں نہیں آئی تھی ہے کیونکہ روایات بہت بعد میں جمع ہوئی ہیں اور بتدریج ان میں اضافہ ہوا ہے جیسا کہ سنت وحدیث کے باب میں گذر چکا ہے۔نیز آپ کے زمانہ میں مختلف اسباب کی وجہ سے وضع احادیث کا زور بڑھ گیا تھا۔اس وجہ سے بھی اخذ روایات میں آپ بڑی احتیاط برتنے پر مجبور تھے۔حضرت امام ابو حنیفہ نے تدوین فقہ میں ایک اور نیا انداز بھی لمحات النظر للكوثرى صفحه ۲۰ مطبوعه القاهره ۱۳۶۸ھ محاضرات صفحه ۱۵۴ - ابو حنیفه صفحه ۵۳ محاضرات صفحه ۷۵ بحواله تاريخ بغداد للخطیب جلد ۱۳ صفحه ۲۳۸ محاضرات صفحه ١٦٠ بحواله تاریخ بغداد جلد ۱۳ صفحه ۳۵۲ الامام الشافعی صفحه ۲۱۴ ه الامام الشافعي صفحه ۷۲