تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 107 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 107

تاریخ افکا را سلامی 1+2 آپ خاص طور پر اس کی نگرانی کرتے لیے - حضرت عمر نے قحط سالی کے زمانہ میں حکم دیا تھا کہ لوگوں کی ضرورتیں بیت المال سے پوری کی جائیں اور اگر بیت المال میں گنجائش نہ رہے تو صاحب حیثیت لوگ ذمہ دار ہیں کہ وہ خرچ کریں۔- حضرت عمرہ کا طریق تھا کہ زنا کے مجرم کو مقررہ سزا کے علاوہ ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا کرتے تھے لیکن ایک بار ایسا ہوا کہ ایک مجرم دشمن کے ساتھ جا ملا اور ڈر پیدا ہو گیا کہ ایسے لوگ مسلمانوں کے خلاف مخبری نہ کریں۔چنانچہ آپ نے سزا کا یہ حصہ منسوخ کر دیا ہے دشمن یا شر پسند عناصر کے پاس اسلحہ کی فروخت منع ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ یہی ہتھیار مسلمانوں اور امن پسند شہریوں کے خلاف استعمال کریں۔۹ مخالف اور دشمن کی گواہی قابل رد ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ پرانی مخالفت کی بنا پر وہ غلط بیانی کرے۔۱۰ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہے لیکن اس کے لیے پر امن ذرائع اختیار کرنے کی ہدایت ہے سختی کرنا ، جنگ بپا کرنا اور گالی گلوچ تک نوبت پہنچا نا درست نہیں کیونکہ اس سے ا۔فتنہ بڑھتا ہے اور امن و امان کو نقصان پہنچتا ہے اور حصول مقصد کی امید معدوم ہو جاتی ہے۔۔دوسرے تاجر کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے تجارتی مال کا بھاؤ گرانا منع ہے کیونکہ یہ طریق دوسرے کی تجارت کا بھٹہ بٹھانے کے مترادف ہے۔غرض ذخیرہ فقہ میں ایسے ذرائع کی متعد د مثالیں ملیں گی جو اصلاً مباح ہیں لیکن وہ مفسدہ یا بدی کا باعث ہیں یا باعث بن سکتے ہیں اس لیے ان سے منع کیا گیا ہے اور ان سے مجتنب رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ا كان عمر سباقا لسد الذرائع والعمل بالصالح۔مالک بن انس صفحه ۲۵۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیں الامام الشافعی صفحه ۲۵۶ مالک بن انس صفحه ۲۰۶ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں مالک بن انس صفحه ۳۲۲ H فمالك لا يرى سل السيف في سبيل الأمر بالمعروف والنهي عن المنکر (والمعتزلة يرى ذالك واجباً سدا للذرائع الى الفتنة ولان الدنيا يصلحها السلام والامن۔(مالک بن انس صفحه ۲۳۵) محاضرات صفحه ۳۶۵