تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 87 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 87

تاریخ افکا را سلامی ۸۷ پیش آمدہ کے بارہ میں فیصلہ دے یا رائے قائم کرے جن کے بارہ میں نص شرعی تو نہیں ملتی لیکن ان میں وہ علت موجود ہے جو مخصوص حکم میں موجود تھی یا شراب بد مست بنا دیتی ہے مدہوش کر دیتی ہے۔شراب کے حرام ہونے کی یہی وجہ ہے پس وہ تمام چیزیں جو مد ہوشی اور مستی پیدا کرتی ہیں جیسے بھنگ، چرس، ہیروئن وغیرہ سب حرام ہوں گی حالانکہ نص صرف شراب کے بارہ میں ہے۔بہر حال منصوص حکم کی علت اور وجہ معلوم کرنا ہی مجتہد کے فرائض میں شامل ہے۔یہ علت اور وجہ بعض احکام میں واضح ہوتی ہے بلکہ بعض جگہ خود شارع اس کی وضاحت کر دیتے ہیں اور بعض اوقات یہ علت مخفی اور عمیق ہوتی ہے اور اس کے معلوم کرنے کے لیے مجتہد کو بڑی کوشش کرنی پڑتی ہے۔بڑے غور و فکر سے کام لینا پڑتا ہے۔حضرت امام ابو حنیفہ کو احکام کی علت اور وجہ معلوم کرنے میں بڑی مہارت حاصل تھی آپ کو اس کا خاص ملکہ تھا جس کا دوست ، دشمن دونوں کو اعتراف تھا۔غرض مساوات علت مساوات حکم کا تقاضا کرتی ہے اور اسی مساوات کے معلوم کرنے کا نام قیاس ہے۔بہر حال زندگی کے مسائل کے بارہ میں شریعت کا منشاء معلوم کرنا ضروری ہے اور یہ علم یا تو نص صریح سے حاصل ہو سکتا ہے یا پھر نص کی علت اور حکمت کو سمجھ کر مسئلہ کو اس پر محمول کرنے اور اس پر قیاس کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ ضرورت بڑی واضح اور ہر سمجھدار کے علم میں ہے۔قیاس کی مخالفت اجتہاد اور رائے کی طرح قیاس کی بھی مخالفت کی گئی ہے۔سب سے زیادہ مخالفت حنبلیوں اور اہل ظاہر کی طرف سے ہوئی ان کے نزدیک احکام دینیہ معلوم کرنے کا واحد ذریعہ نص ہے خواہ نص قرآنی ہو یا سنت وحد بیث ہو۔امام احمد کہا کرتے تھے کہ قیاس سے کام لینا اور اس کے ذریعہ شرعی ل لا يد من بيان الحكم الشرعي في كل ما ينزل بالانسان۔۔۔۔و هذا الحكم اما ان يثبت بالنص الصريح واما ان يحمل على النص والحمل هو القياس (محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهية صفحه ۳۸۵) قیاس کے اصطلاحی مفہوم کو سمجھانے کے لیے علماء نے مندرجہ ذیل وضاحتیں کی ہیں۔الف۔القياس الجمع بين المتماثلين والفرق بين المختلفين (الامام احمد صفحه (۲۲۴) ب الحاق مالا نص فيه فى الحكم المنصوص عليه لاتحاد العلة بينهما (مالک بن انس صفحه ۲۱۱) ج الحاق ما نص فيه بما فيه نص لاتحاد علة الحكم في الأمرين (ابو حنيفه صفحه (۱۷۲) نیز دیکھیں الامام الشافعی صفحه ۱۳۸ (محاضرات في المذاهب تاريخ الفقهية صفحه ۷ و ۷۰ )