تاریخ افکار اسلامی — Page 86
تاریخ افکا را سلامی MY اجتہاد کے ذرائع ، اصول اور شرائط جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ رائے یا اجتہاد آزادانہ سوچ اور بے اصول فکر کا نام نہیں بلکہ اس کی صحت کے اصول و شرائط ہیں۔بنیادی شرط یہ ہے کہ اجتہاد کرنے والا قرآن و سنت سے واقف ہو۔معاشرہ کی نفسیات اور تمدن کے تقاضوں کو جانتا ہو۔مصالح قوم اور عادات الناس پر اس کی نظر ہو۔دوسرے یہ کہ عوام میں اس کا وقار اور احترام ہو۔قومی اور خشیۃ اللہ کے امتیازی وصف کا حامل ہو۔بہر حال علماء اور فقہاء نے اجتہاد کرتے وقت قرآن وحدیث کے علاوہ جن باتوں کو کم و بیش مد نظر رکھا ہے اور جو اصطلاحات قائم کی ہیں ان کی تفصیل یہ ہے۔قیاس ،استحسان، مصالحه ،مُرسله ،غرف ذرائع ، رفع خرج، استصحاب - ہر ایک کی حسب ضرورت تفصیل آئندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہے۔قياس رائے قائم کرنے اور کوئی فیصلہ دینے کا ایک بڑا ذریعہ قیاس ہے۔قیاس سے حضرت امام ابو حنیفہ نے بہت زیادہ کام لیا ہے۔قیاس کے دوسرے بڑے مویید حضرت امام محمد بن اور لیس شافتی ہیں۔ادریس قیاس کے معنے یہ ہیں کہ اشتراک علت اشتراک حکم کا منتفی ہے۔اگر ایک کو اول آنے کی بنا پر انعام ملا ہے تو دوسرے کو بھی جو اول آیا ہے انعام ملنا چاہیے۔اگر ایک کو چوری کرنے کی وجہ سے سزا ملی ہے تو دوسرے چور کو بھی سزاملنی چاہیے۔حکم کی یہ مساوات ایک بدیہی امر ہے اور اسی کا نام قیاس ہے۔شریعت کے تمام احکام حکمت اور مصلحت پر مبنی ہیں ہر حکم کی کوئی نہ کوئی علت اور وجہ ہے مجتہد کا کام یہ ہے کہ وہ یہ علت یہ وجہ یہ حکمت معلوم کرے اور پھر اس کے مطابق ایسے مسائل ل اذا كانت الشريعة معقولة المعنى فللمجتهد ان يفكر في تعرّف المعاني والعلل وضبط النتائج باستقراء الاحكام الشرعية ( ابوحنيفه صفحه ۱۷۲ ملخصا)