تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 85 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 85

۸۵ ذمہ داری کو ٹھیک طرح نباہ لینے کے بعد اگر کوئی رکن خوش ہو جاتا ہے کہ تینی ذمہ دار کی حیثیت احمدی ہونے کے اس پر ڈالی گئی تھی وہ اس نے پوری کر دی تو وہ غلطی خوردہ ہے۔۔۔اسی طرح اگر جوانی کے جوش میں یا اپنے تجربہ کے زعم میں وہ اپنے حدود سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو بھی وہ اچھا کام نہیں کرتا۔۔۔۔۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مجالس خدام الاحمدیہ اور مجالس انصار الله کے متعلق یہ ارشاد فرمایا تھا کہ میں نے ایک محدود کام محدود دائرہ عمل میں ان تنظیموں کے سپرد کیا ہے، جماعتی نظام کو میں یہ حق نہیں دیتا کہ وہ ان کے کاموں میں دخل دے، کوئی عہدیدار پریذیڈنٹ ہو یا امیر امیر ضلع ہو یا امیر علاقائی۔اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ خدام المیریہ کے کام میں دخل دے یا انہیں حکم دے لیکن میں اجازت دیتا ہوں کہ اگر وہ ضرورت محسوس کریں تو وہ ان سے درخواست کر سکتے ہیں کہ بحیثیت مجلس خدام الاحمدیہ تم یہ کام کرو۔درخواست کرنے کی اجازت دینا تو دراصل امراء کو غیرت دلانے کے لیے تھا تا وہ اپنی تنظیم کو اس حدنگ بہتر بنائیں کہ ان کو کبھی اس قسم کی درخواست نہ کرنی پڑے، لیکن انھوں نے اس اجازت سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور جیب بھی کوئی جماعتی کام ان کے سامنے آیا تو انہوں نے بجائے اس کے کہ جماعتی نظام سے کام لیتے آرام سے مجلس خدام الاحمدیہ کے مقامی قائد کو بلایا اور ان سے درخواست کی کہ مہربانی کرکے یہ کام آپ کر دیں اور اس طرح وہ جماعتی نظام کو کمزور کرنے کا موجب ہوئے۔اس لیے آج سے ان کا یہ حق ہی واپس لیتا ہوں۔جماعت کا کوئی عہد یدار اب اس بات کا مجازہ نہیں ہوگا کہ وہ مجالس خدام الاحمدیہ یا مجلس انصاراللہ سے کسی قسم کی کوئی درخواست کرے۔حکم وہ دے نہیں سکتا وہ پہلے ہی منع ہے۔درخواست کی اجازت اب واپس کی جاتی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آئندہ جماعتی کام انھوں نے جماعتی نظام کے ذریعہ سے ہی کروانے ہیں۔مجلس خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ سے کبھی اس قسم کی درخواست نہ کرنا ہوگی، فی الحال میں اس اجازت کو صرف ایک سال کے لیے واپس لیتا ہوں پھر حالات دیکھ کر فیصلہ کر سکوں گا۔