تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 84
قرآن کریم سکھانے کا اپنے طور پر انتظام کر دیا ہے اور وہ جماعت سے تعاون نہیں کر رہے۔۔۔خدام کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو طریق انھوں نے اختیار کیا ہے وہ درست نہیں ہے۔جس جگہ یا علاقہ میں قرآن کریم پڑھانے کا کام ٹیکس انصار اللہ کے سپرد کیا گیا ہے۔اس علاقہ کی جماعتوں سے میں امید رکھتا ہوں اور توقع رکھتا ہوں کہ وہ مجلس انصار اللہ سے پورا پورا تعاون کریں گی اور وہ مقامات جماعتیں یا اضلاع جہاں قرآن کریم کی تعلیم کا کام جماعتی نظام کے سپرد کیا گیا ہے وہاں جھانک قرآن کریم پڑھانے کا سوال ہے خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔کیونکہ یہ کام ان کے سپرد نہیں کیاگیا، تمام دوستوں کو انصار میں سے ہوں یا خدام میں سے جوان ہوں یا بڑی عمر کے یہ بنیادی بات یاد رکھنی چاہیئے کہ احمدی ہونے اور انصارہ یا خدام کے رکن ہونے میں بڑا فرق ہے۔ایک احمدی پر اللہ تعالیٰ نے بڑی اہم اور بڑی وسیع ذمہ داری ڈالی ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں حضور کے نشا، اور ارشاد کے تحت اور پھر بعد میں حضور کے خلفاء کے نشا اور ارشاد کے ماتحت تمام دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لیے ہو سکیمیں تیار کی جائیں ہر احمدی اپنا سب کچھ قربان کر کے ان سکیموں کو کامیاب کرنے کی کوشش کرے تا کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ جو آسمان پر ہو چکا ہے کہ وہ اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرے گا اس فیصلہ کا نفوذ اس دنیا میں ہمیں جلد تر نظر آجائے۔۔۔۔۔یہ المی فیصلہ جو آسمان پر ہو چکا ہے زمین پر نافذ ہو کر رہے گا۔۔۔۔لیکن اس راہ میں انتہائی قربانی پیش کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔یہ کام جو ایک احمدی کے سپرد ہے۔احمدی نوجوان کے بھی ، احمدی بوڑھے کے بھی ، احمدی مرد کے بھی، احمدی عورت کے بھی ، احمدی بیچے کے بھی۔اس وسیع کام کا ایک حصہ جو شاید اس کام کا ہزارواں حصہ بھی نہ ہو، مجالس خدام الاحمدیہ انصار الله، لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ کے سپرد کیا گیا تاکہ ان مختلف گروہوں کی تربیت ایسے رنگ میں کی جاسکے کہ وہ اس ذمہ داری کو کیا حفظہ ادا کر سکیں جو ایک احمدی کی حیثیت سے ان کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔میں تمھیں خدام الاحمدیہ یا ابلیس انصار الله کارکن ہونے کی حیثیت سے تم پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ بہت ہی محدود ہے اس محدود