تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 68 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 68

ایمان بالقران اس کے بعد فرمایا الانين و منت سما النيل الالات اس میں ایمان بالقرآن کا حکم ہے مگر اس کو صرف ماننا ہی کافی نہیں بلکہ اسکے ، ہر حکم کو اپنے اوپر حاکم بنانا ضروری ہے۔اس سلسلہ میں میں نے احباب کو یہ نصیحت کی نفی کہ قرآن کریم نے عورتوں کو حصہ دینے کا حکم دیا ہے اس پر عمل کریں اور چند سال ہوئے اس سالانہ پر میں نے احباب سے کہا تھا کہ کھڑے ہو کر اس کا اقرار کریں اور اکثر نے کیا بھی تھا مگر میرے پاس لنکا میں پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض احمدی نہ صرف یہ کہ خود حصہ نہیں دیتے بلکہ دوسروں سے لڑتے ہیں کہ تم بھی کیوں دیتے ہو۔مسلمانوں نے جب عورتوں سے یہ سلوک کیا تو خدا تعالٰی نے ان کو عورتیں بنا دیا ، انہیں ماتحت کر دیا اور دوسروں کو ان پر حاکم کر دیا۔۔۔لیکن اگر تم آج عورتوں کو ان کے حقوق دینے لگ جاؤ اور مظلوموں کے حق قائم کرو تو خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اترینگے اور تمہیں اٹھا کر اہ پر لے جائیں گے۔نہیں عورتوں کے حقوق ان کو ادا کرو۔بزرگان دین کا احترام اس کے بعد ایان سامانی میں نبی کا کم ہے اس کے بعد من جس کے معنی ہیں کہ دوسروں کے بزرگوں کا جائز ادب اور احترام کرو گویا اس میں صلح کی تعلیم دی گئی ہے پھر اس میں یعنی تعلیم ہے کہ تبلیغ میں نرمی اور سچائی کا طریقی اختیار کرد۔یقین بالآخرة (آخری چیز بینین بالا کرت ہے۔اس کے معنی دو میں ایک تو مرنے بالآخرت کے بعد زندگی کا یقین ہے۔بعض دفعہ انسان کو قربانی کرنی پڑتی ہے گر ایمان بالغیب کی طرف اس کا ذہن نہیں جاتا۔اس وقت اس بات سے ہی ہمت بندھتی ہے کہ میری اس قربانی کا نتیجہ اگلے جہان میں نکلے گا، پھر اس کے معنی بھی ہیں کہ انسان ایران رکھے کہ خدا تعالیٰ مجھ پر بھی اسی طرح کلام نازل کر سکتا ہے جس طرح اس نے پہیلوں پر کیا اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ سے محبت وہی شخص کر سکتا ہے جو یہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ میری محبت کا صلہ مجھے دے سکتا ہے جس کے دل میں یہ ایمان نہ ہودہ خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کر سکتا۔