تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 47 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 47

شرکت کی غور و خوض کے بعد یہ قرار پایا کہ ایک مشتر کہ سب کمیٹی قائم کی جائے جو تعاون کے بارے میں تفاصیل طے کرے چنانچہ اس کمیٹی کے مندرجہ ذیل افراد مبر تجویز کئے گئے : حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مولوی عبد الرحیم صاحب در در خلیل احمد صاحب اور محبوب عالم صاحب خالد - اس مشترکہ کمیٹی کے صدر حضرت مرزا بشیراحمد صاحب سیکرٹری مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور نائب سیکرٹری خلیل احمد صاحب ناصر قرار پائے یہ بھی قرار پایا کہ یہ تعاون کمیٹی کیم سمیرا ستہ تک قائم رہیگی۔مورخہ بلی ہے کہ خدام وانصار کے عہدہ داروں کا ایک مشترکہ اجلاش جوانی میں یہ طے پایا کہ میں اور م میں دونوں مجالس کا تعاون ہو گا۔ا سلسلہ کے بارے میں اعتراضات کا جمع کرنا، انصار اللہ خیرا محمدیوں کے اعتراضات جمع کریں اور خدام عیسائیوں کے۔- جملہ اعتراضات کے جوابات کی اشاعت مشترک ہو۔۳- دونوں مجالس باری باری الگ الگ تعلیمی ہفتے مناتیں خدام کے ہفتہ میں خدام لیکچرار ہوں اور انصارال کے ہفتہ میں انصار مگر دونوں ہفتوں میں تمام خدام وانصار شریک ہوں۔ہر تعلیمی ہفتہ کے تین ہفتہ بعد انصار اور خدام کا زبانی امتحان لیا جائے۔پھی نے پالا کہ ۱۵ فروری سالم فلته تک تمام اعتراضات جمع ہو جائیں اور ان کا جواب تیار کرنے کے لیے سکیم بنائی جائے۔مندرجہ بالا کام کے علاوہ حضرت امیر المومنین کے حکم سے مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے زیر اہتمام جو خدام مرکزیہ۔و فار عمل مناتے گئے ان میں مجلس انصاراللہ مرکز یہ بھی تعاون کرتی رہی، اسی طرح خدام الاحمدیہ کے زیر اہتمام کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو امتحانات منعقد ہوئے ان میں انصار بھی شریک ہوتے رہے۔ہفتہ تعلیم وتلقین کی ابتدا حضرت امیر المومنین کے ارشادات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تعاون کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق قادیان میں پہلا ہفتہ تعلیم و تلقین ۲۴ تا ۳۰ ہجرت مه امتی مسئلہ منایا گیا اور اس میں مسئلہ نبوت سے متعلق مندرجہ ذیل شقوں پر روشنی ڈالی گئی۔تھے ریکارڈ مجلس انصار الله مرکزیہ