تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 33
۳۳ فرمایا استقلال نہایت عمدہ صفت ہے۔بارش کا ایک چھینا گیلا نہیں کرتا، لیکن دہی پھینٹا باربار پڑے تو جل تھل کر دیتا ہے، پانی کتنی نرم چیز ہے، لیکن وہ پہاڑ جیسی سخت چیز کو گھسا دیتا ہے اور غاریں بنا دیتا ہے یہی اخلاق کا حال ہوتا ہے اگر ایک پیسہ روزانہ خدا کی راہ میں یا غریبوں کو دو تو دل پر گہرا اثر پاؤ گے، آنحضرت صلعم نے تمام کاموں سے اچھا کام اس کو قرار دیا ہے جو دوام کے ساتھ ہو ہیں جو کام بتا یا جائے اسے روزانہ استقلال سے کروتا اس کا فائدہ ہو۔ایک دفعہ کسی نے ڈیڑھ سال کی بچی کو قتل کر کے باہر پھینک دیا۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت اس قدر گر سکتی ہے کہ ایک دن وہ نادان بچے کو بھی مارنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔جرموں کے اس پہلو پر غور کرو کہ اگر انسانی طبیعت پر قابو نہ رکھا جائے تو وہ کتنی گر جاتی ہے۔بے جا جوش انسان کو کس طرح خراب کرتا ہے اس سے عبرت حاصل کرو۔اور بدلہ لینے میں کبھی عید بازی سے کام نہ لو۔غصہ کی حالت میں دوسرے کی نسبت اپنا نقصان زیادہ ہوتا ہے کسی سے غلطی سرزد ہو تو اس کو نرمی سے سمجھاؤ اور علیحدگی میں سمجھانا اور نصیحت کرنا تو کبھی بھی نفع سے خالی نہیں ہوتا۔مدارس میں سالانہ چھٹیوں کے موقعہ پر فرمایا تمہیں چھٹیوں میں بہت کچھ فارغ وقت ملے گا ، روزہ انہ تین گھنٹے کام کرنے سے اچھی طرح سبق یاد کر سکو گے، پھر بھی روزانہ تین گھنٹے فارغ بچیں گے۔ان میں یہ کام کرنے پائیں (۱) اپنے ہم مریڑ کوں اور رشتہ داروں مرد عورتوں کو اسلام کی مشکلات سناؤ۔عیسائی پادری لوگوں کو عیسائی بنا رہے ہیں۔اسی طرح آنحضرت صلعم کی زندگی کے واقعات سناڈ۔اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کرد (۲) جہاں جاؤ وہاں کے طالبعلموں سے واقفیت پیدا کرو اور انہیں ٹریکٹ آپ اسلام کے لیے کیا کر سکتے ہیں " پڑھاؤ (۳) جہاں جاؤ چھوت چھات کے متعلق سمجھاؤ اور دلیلیں دو (۴) با ہر جا کہ سوسائٹیاں قائم کرو تا کہ لوگوں کو کام کرنے کی عادت پیدا ہو اور وہ قومی خدمت کر سکیں رہ سن رائز درسالہ ا ساتھ لے جاؤ اور اس کے خریدار (0) پیدا کرو (۷) انجمن ترقی اسلام سے چندے کی کاپیاں لے لو اور لوگوں سے چندہ جمع کرو اور ان کو بتاؤ کہ یہ چندہ اسلامی خدمت کے لیے ہے، کم از کم پچاس روپے جمع کرو۔تم نے ہو وہ ایسے رات کو آیت الکرسی اور آخری سورتیں پڑھنے نمازوں کی پابندی کرنے ، ممبران انصار الله اور بنی نوع انسان کو بھائی بھائی سمجھنے کے بارے میں کٹے میں انہیں باقاعدہ عمل میں لاؤ، سفر میں اس کی آن دانش ہوتی ہے پہلے بوڑھوں کو اتار و پھر خود اتر در دین میں جگہ نہ ہو اور کوئی آجائے تو اس کو نکالنے کی بجائے اپنی جگہ