تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 305
- حضرت امیر المومنین کے متعلقہ خطبات تمام اراکین کو ہر جگہ پڑھ کر سنائے جائیں بالخصوص دیہاتی مجالس ہیں۔۳۔جو دوست اس تحریک میں شامل نہیں ہوئے انہیں شمولیت کی ترغیب دی جائے۔(ج) دفتر دوم اور انصار اللہ حضرت امیر المومنين خليفة المسيح الثالث ايده التدليعالى بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرموده ۲۵ اخاء اکتو بر شہر میں تحریک جدید کے سال نو کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا۔اكتوبي سال روان کا جب ہم تجزیہ کرتے ہیں تو یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ دفتر اول (جس کی ابتدا پر ۳ سال گزر چکے ہیں) کا وعدہ سال رواں کا ایک لاکھ پچپن ہزار روپیہ ہے اور دفتر دوم میں شامل ہونے والوں کے وعدے تین لاکھ چون ہزارہ ہیں۔۔۔۔اگر شامل ہونے والوں کی اوسط فی کسی آمد نکالی جائے تو دفتر اول کے مجاہدین کی اوسط ۶۴ روپے بنتی ہے۔اس کے مقابلہ میں دفتر دوم کے مجاہدین کے چندے کی اوسط ۱۹ روپے بنتی ہے اور ۶۴ روپے کے مقابلہ میں یہ بہت کم ہے۔۔۔لیکن میں نے سوچا اور غور کیا اور مجھے یہ اعلان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ انہیں روپے اوسط بہت کم ہے۔اور آئندہ سال جو یکم نومبر سے شروع ہو رہا ہے جماعت کے انصار کو دفتر دوم کی ذمہ داری آج میں انصار پر ڈالتا ہوں ) جماعتی نظام کی مدد کرتے ہوئے آزادانہ طور پر نہیں یہ کوشش کہ نی چاہیئے کہ دفتر دوم کے معیار کو بلند کریں اور اس کی اوسط انیس روپے سے بڑھا کر میں روپے فی کس پر لے آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئندہ سال کے لئے ہیں یا میلہ رکھتا ہوں کہ جماعتیں یہ امید اس طرف متوجہ ہوں گی اور میں حکم دیتا ہوں کہ انصارہ اپنی تنظیم کے لحاظ سے جماعتوں کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں اور کوشش کریں کہ آئندہ سال دختر دوم کے وعدوں اور ادائیگیوں کا معیار انیس روپے فی کس سے بڑھ کو تمہیں رو پیر فی کس اوسط تک پہنچ جائے " حضور کے مندرجہ بالا ارشاد کی تعمیل میں صدر تفلیس کی جانب سے حضور کا وہ خطہر جمعہ جس میں حضور له الفضل ٢ / نبوت / نومبر ۱۳۴۷ مش