تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 282
PAI پر اجر و ثواب کے مستحق نہیں بن سکتے کہ ہم نے قبول حق میں پہل کی تھی۔ہم صرف اس صورت میں نسلاً بعد نسل اللہ تعالیٰ کی رحمتوں فضلوں اور برکتوں کے وارث بننے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جبکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ پر چل کر اور قربانی کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کر کے نسلاً بعد نسل اپنے اس امتیاز کو قائم بھی رکھتے چلے جائیں۔ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ پہلی امتوں کی طرح محدود احکام پر عمل پیرا ہونے سے کام نہیں چلے گا۔کامل شریعت کے نزول کے بعد تو ساری شریعت پر عمل کرنا اور اس کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے اور یہ نمونہ پیش کرتے چلے جانا ہماری ذمہ داری ہے۔اگر ہم اس ذمہ داری کو ادا نہیں کرتے یا اس کی ادائیگی میں غفلت برتے ہیں تو پھر ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدمت اسلام کے نتیجہ میں ملنے والی برکات کسی دوسری قوم کے حصہ میں آئیں اور ہم ان سے محروم قرار پائیں۔حالات اس امر یہ گواہ ہیں کہ اللہ تعالیے اطراف و جوانب عالم میں ایسی قومیں تیانہ کر رہا ہے جو بہت جلد اس سلسلہ میں شامل ہوں گی۔ان کی شمولیت کے آثار دن بدن نمایاں سے نمایاں تر ہوتے چلے جا رہے ہیں اگر ہم اسلام کا عملی نمونہ پیش کرنے میں سستی دکھائیں گے تو پھر لانه می بات ہے کہ دوسری قومیں جنہیں خدا تعالے تیار کر رہا ہے ہم پر سبقت لے جائیں گی اور ہم محروم رہ جائیں گے۔اس لئے میں نے آپ سے گذشتہ سال بھی کہا تھا اور اب بھی کہتا ہوں کہ یہ تھ زمانہ اسلام کا عملی نمونہ پیش کرنے کا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو دنیا میں قائم دنیا کرنے کے لئے غیرت کے جذبہ کو فروغ دینا ضروری ہے کیونکہ بے دینی اور بے عملی کی ایک بہتر غیرت کا فقدان بھی ہے۔ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر غیرت کا جذبہ پیدا کریں اور اسے اس متک فروغ دیتے چلے جائیں کہ اسلام کا عملی نمونہ اور قربانیاں پیش کرنے میں ہم پر کوئی سبقت نہ لے جا سکے مری اقوام کے ایثار پیشہ اور خدائی احمدی اس میدان میں جتنی ترقی کر میں ہماری کوشش یہ ہونی چاہئیے کہ ہمارا قدم اس سے آگے ہی پڑے۔پس یہ وقت ستانے اور شستی دکھانے کا نہیں بلکہ پہلے سے بھی کہیں بڑھ کر مستعدی دکھانے کا ہے۔