تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 281
13 ہیں اور اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ حسب استطاعت و استعدادہ آپ کی پیروی سے روحانی علو وارتفاع حاصل کر سکتے اور کرتے پہلے جا رہے ہیں اور ہم نے ایک خدائی جماعت کی حیثیت سے ساری دنیا کو آنحضور کی غلامی میں داخل کرتا ہے اور اپنی ہی طرح کل دنیا کو روحانی افضال و انعامات اور نیوشا برکات سے متمتع کرنا اور اسے بھی قرب الہی کی راہ پر گامزن کر کے عرش الہی تک پہنچاتا ہے۔مجلس اصاله لا ئیو کی سالانہ تقریب پر صد محترم حضرت مابندار مرزا مبارک احمد جب کا انصار سے خطاب یہ تقریب ۱۲ر امان مانجا میں مقامی اراکین کے علاوہ خدام و اطفال نے بھی شرکت کی۔اس تقریب میں تمام مرکزی قائدین بھی شریک ہوئے۔اس موقعہ پر صدر محترم نے ارشاد فرمایا۔اس کو چار بجے شام مسجد فضل لالمپور میں منعقد ہوئی جس موجودہ دور کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ ہم محمدرسول اللہصلی الہ علیہ وسلم کے نمونہ پر پل کر جیب استطاعت و توفیق قربانی اور ایثار کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کریں۔حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثالث ہمیں بارہ بار خبر دار فرما چکے ہیں کہ وہ زمانہ بہت جلد آنے والا ہے۔جب زبانی جمع خریت سے کام نہیں چلے گا بلکہ خود اپنی زندگیوں میں انقلاب لاکر اور دین کی راہ میں بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کر کے اپنے عملی نمونہ سے دنیا کو اسلام کی طرف لانا ہو گا۔خدا تعالے اپنے وعدہ کے بموجب دنیا کی دوسری قوموں کو اسلام کا حلقہ بگوش بنا کہ دین کی خاطر قربانیاں کرنے کی توفیق دے رہا ہے۔اگر ہم اپنی نسلوں کی خاطر خواہ تربیت نہ کریں اور انہیں دین کی خاطر قربانیاں کرنے کے قابل نہ بنائیں تو ہم محض اس بنا ا ماہنامہ انصار الله ماه احسان جون ۱۵ پیش 1921