تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 275
اللہ تعالے کے انبیاء اور مامورین جب دنیا میں مبعوث ہوتے ہیں تو وہ ایک آسمانی مشن لے کر دنیا میں آتے ہیں۔ایک خاص مقصد ان کے سامنے ہوتا ہے، جس کی تکمیل کے لئے وہ ایک عظیم الشان جد و جہد کا آغاز کرتے ہیں اور اس وقت تک دم نہیں لیتے جب تک کہ مقصد یہ تمام و کمال پورا نہ ہو جائے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب حضرت سید دار آدم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء ماسبق کی پیشنگوئیوں کیمطابق سیداله ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے والی کامل ترین شریعت لے کر مبعوث ہوئے تو آپ نے اینجا بعثت کا مقصد بیان کہتے ہوئے اعلان فرمایا مجھے اس لئے بھیجا گیا ہے کہ میں انسانیت کے اس دور جدید میں سن بلوغ کو پہنچے ہوئے انسانی ذہن کے سامنے ایک ایسا لائحہ عمل رکھوں کہ جو اسے دینی اور دنیوی لحاظ سے ترقی کے معراج تک پہنچانے کا ضامن ہو اور انہیں ان کے مقصد حیات میں کامیابی سے ہمکنار کرنے والا ہو۔آپ نے فرمایا۔اسی لئے مجھے وہ شریعیت دی گئی ہے جو ہر لحاظ سے کامل ہے اور جس میں کسی ترمیم یا تنسیخ کی گنجائش نہیں اور اسی لئے یہ قیامت تک جاری رہے گی۔خدا تعالے کا یہ بے مثل کلام جو مجھ پر نازل ہوا ہے اور جو قرآن شریف کی شکل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا گیا ہے حقائق ورقائق اور علوم و معارفت پڑ ہے۔اس سے نہ صرف روحانی بیماریاں دور ہو کر روحانی لحاظ سے انسان کو صحت و تندرستی اور قوت و توانائی ملتی ہے بلکہ دنیوی مشکلات اور معاشرہ کی الجھنوں کا علاج میں اسی میں مضمر ہے۔آئندہ روحانی بیماریوں اور معاشرہ کی الجھنوں کو دور کرنے کے سلسلے میں ذہنی و فکری اور علمی و عملی لحاظ سے جو اشکال بھی پیش آئیں گی انہیں قرآن حل کرتا چلا جائے گا۔آپ کے دعوئے رسالت اور اس آخری اور کامل شریعت پر جو لوگ ایمان لائے انھوں نے آپ کے دعوئی کی ہمہ گیر نوعیت اور زمانی و مکانی اعتبار سے اس کی بے انداز وسعت کے عین مطابق اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا کہ ہمارا محض ایمان لے آنا ہی کافی نہیں بلکہ ہمارا فرض ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کی روحانی و ماری فلاح کے لئے اپنی حیات گانہ کر دکھائی ہے اسی طرح ہم بھی اس راہ میں اپنی نہ ند گیاں وقف کر دکھائیں اور اللہ کے راستے میں اپنے اموال ، اپنی عزتیں اور اپنی جانیں قربان کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ذاتی فلاح کو بھی کافی سمجھتے تو وہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے اور اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق ڈھال کر آئندہ زندگی کے متعلق مطمئن ہو جاتے لیکن انہوں نے اسے کافی نہیں