تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 262
نئے نئے قرآنی معارف و حقائق کے اظہار کی ضرورت بھی مسلم ہے تاکہ زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات اور نئے پیچیدہ مسائل کو قرآن کی روشنی میں حل کیا جائے اور یہی دو چیز ہے جو ہمیں مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ حاصل ہوئی۔آپ نے مبعوث ہو کر ہمیں یہی نصیحت فرمائی ہے کہ دیکھو قرآن کو بھی مہجور کی طرح نہ چھوڑتا۔اسے چھوڑ کر تو زندگی کا کوئی مزاہی نہیں ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ جبہ دانستہ طور پر قرآن کے کسی ایک محکم کو بھی چھوڑتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔لہذا ہمیں اور خصوصیت کے ساتھ انصار کو ہمیشہ ہی نہیں دوگا کرنی چاہیے کہ خدام پر یا ہاری اور ر پر بھی ایسا وقت نہ لائے جب کہ ہم بھی قرآن سے لیکر اور ڈوری اختیار کرلیں۔حضور نے دوسری تحریک دعا کرتے ہوئے بنی کریم صلی الہ علیہ وسلم کی زندگی کے دو پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ حضور کا دائرہ استعداد اور حضور کی صلاحیتیں تمام دیگر بنی نوع کی صلاحیتوں سے زیادہ ہیں لہذا ان تک پہنچنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن اسوہ نبی پر چلتے ہوئے ہم یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ ہم بھی اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی طاقتوں اور صلاحیتوں کی نشو و نما کو ان کے کمال تک پہنچانے کی کوشش کریں اور یہ خدا کے فضل اور دعاؤں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اس لئے جماعت کو بالعموم اور انصار کو بالخصوص یہ دعا کرنی چاہیے اور اس کے مطابق یہ کوشش بھی کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیے ہم سب کو اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں نشوونا کے کمال تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے اور اس طرح ہم رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کر کے حضور سے ایک گھونا ٹائلٹ پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔خواہ یہ تماثلت بڑا مقام رکھنے والے کے ساتھ ایک اور فنی مقام رکھنے حوالے کی ہی کیوں نہ ہو۔آخر میں حضور نے انصار سے ان کا عہد وسر درایا اور لمبی دعا فرمائی۔پھر جملہ انصار کو دعا دیتے ہوئے انہیں واپس جانے کی اجازت فرمائی۔