تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 261
کا اعلان بعد میں کر دیا جائے گا و حضور نے بعد میں ہچو ہدری شبیر احمد صاحب کو نامزد فرمایا ) ویسے انصار الله کی تنظیم میں نائب صدر کا عمومی عہدہ پہلے بھی موجود ہے۔مگر وہ صدر نامزد کرتا ہے۔یہ عہدہ بھی سردست اسی طرح قائم رہے گا۔آج میں دو بڑی اہم اور ضروری دعاؤں کی طرف آپ کو توجہ دلاتا ہوں۔ان میں سے ایک یہ ہے - کہ اللہ تعالے نے قرآن کریم میں فرمایا قال الرسول نيرب ان قومي اتخذوا هذا القرآن موجو مل - (الفرقان) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ امت مسلمہ پر ایسا آنے والا تھا جب کہ اس کے بعض لوگ قرآن کو مہجوسہ کی طرح چھوڑ دیں گے۔ہمیں بڑی کثرت سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالے جماعت احمدیہ پر جو اسلام کی نشاة ثانیہ کے لئے قائم کی گئی ہے۔کبھی ایسا وقت نہ لائے جب کہ اس کا کوئی گئی حصہ یا گروہ بھی قرآن کو مہجور کی طرح پھوڑ دے۔قرآن ہمیں دل و جان سے عزیز ہے۔یہ ہماری سب سے عظیم متاخ ہے۔یہ ہمارا روح رواں ہے جس کے بغیر ہم زندہ ہی نہیں رہ سکتے۔ہم تو اس کی خدمت کے لئے اور اس کی عظمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں لہذا ہم تو قرآن سے دوری اور بعد کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔قرآن سے دوری بڑا ہی بھیانک نتیجہ پیدا کرتا ہے۔یہ اسی دوری اور بعد کی ایک بھیانک شکل ہے کہ آج ہماری جماعت پر نعود باشد تعریف قرآن کا نا پاک الزام لگا کر ملک میں فتنہ و فساد پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔۔۔۔ہمیں خداتعالے نے اپنے فضل وکرم سے رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کی بشارتوں کے ماتحت مبعوث ہونے والے مہدی معہود کو شناخت کرنے کی توفیق دی ہے۔ہمارا یقین و ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی حقیقی شان کو دنیا پر ظاہر کیا ہے اور اس کی ایسی تفسیر کی ہے۔جو موجہ دہ زمانہ کی ضروریات اور اس کے مسائل کو حل کرتی ہے۔حضور نے صرف سورۃ فاتحہ کی ہی ایسی حسین تفسیر کی ہے کہ باوجود چلینچ دینے کے آج تک عیسائی دنیا اس کا مقابلہ نہیں کر سکی۔کیا اس حسین تفسیر کو چھوڑ کر ہم ان تفاسیر پر انحصار کر لیں۔جن میں انبیاء پر تھوٹ بولنے کے الزام لگائے گئے ہیں۔ہم پرانی تفاسیر کی افادیت سے انکار نہیں کرتے۔ان میں بڑی اچھی باتیں اور قیمتی نکات موجود ہیں جنہیں پڑھنے اور انہیں یاد رکھنے کی آج بھی ضرورت ہے لیکن کتاب مکنون ہونے کے اعتبار سے خدا تعالے کے مظہر بندوں پر