تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 232
۲۳۱ تمام عہد یداران اور اراکین نے باری باری حضور سے مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔اسکے بعد حضور واپس تشریف لے گئے۔حضور کی مراجعت کے بعد نائب صدر محترم نے بعض علمی اور انتظامی امور سے متعلق سوالات کے جواب دیئے اور اختتامی تقریر فرمائی جس میں فرمایا کہ دوستوں نے اس اجتماع سے بہت سے سبق حاصل کئے ہونگے سب سے اہم اور بنیادی سبق تو وہی ہے جس کے لیے تمام انبیاء اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل شریعیت کے ساتھ مبعوث ہوئے یعنی محبت الہی کا سبق۔باقی چیزیں اسی کے گرد گھومتی ہیں۔نیز فرمایا جب مغربی سائنسدان ا اور بادی علوم کے ماہرین بھی روح کی عظمت اور اس کی بقا کے اعتراف پر مجبور ہورہے ہیں تو ہمارا تو یہ زیادہ فرض ہے کہ ہم اپنے جسموں کی نسبت روح کی صفائی اور ترقی کی طرف زیادہ توجہ دیں۔یہی وہ مقصد ہے جیس کے لیے اسلام آیا۔اگر ہم اس مقصد کو حاصل کر لیں تو اسلام کا روشن چہرہ خود بخود نمایاں ہو جائیگا۔اس کے بعد آپ نے اجتماعی دعا کرائی اور اس طرح یہ اجتماع بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔مجلس انصاراللہ کا یہ پہلا سالانہ اجتماع اس لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل تھا کہ انصامہ نے اجتماع کے ایام غیر معمولی طور پر دعاؤں اور عبادات میں گزارے اور اس کے نتیجہ میں سارا وقت ایک روحانی ماحول قائم رہا اور قلوب میں پاک تبدیلی پیدا ہوئی۔حضرت امیر المومنین نے بھی ۲۰ نبوت کر نومبر کو خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے اس روحانی کیفیت اور انصار کی دعاؤں کا ذکر فرمایا۔با وجود سیلاب کی مشکلات اور تنگ وقت میں اجتماع کی اطلاعات بھیجوانے کے وہ بیرونی مجالس کے ۹۲ نمائندگان نے شرکت کی، زائرین کی تعداد ۳۲۳ رہی۔رہائش اور طعام کا انتظام فضل عمر ہوسٹل میں ہی کیا گیا تھا جو مہمانوں کے لیے بہت سہولت کا باعث ہوا۔لے ۱۳۴۴ له الفضل ۲۲ر نبوت رنو مبر مش ١٩٥ء