تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 13
مال میں لوٹے ، ان کو جائیدادوں سے بیدخل نہیں کیا ، ان کی عزت و آبرو پر حملہ نہیں کیا، ان کے مذہبی رہنماؤں اور مقامات مقدسہ کو ہاتھ نہیں لگایا۔عورتوں کی عصمتوں کو پامال نہیں کیا ، بارغ نہیں اجاڑے کھیتیاں نہیں جلائیں، سامان معیشت سے کسی کو محروم نہیں کیا ، انھوں نے ہر موقعہ پر انتہائی صبر و تحمل سے کام لیا، عمروں کی پابندی کی۔انصاف کو وطیرہ بنایا اور بلا لحاظ منہ مہب وقت اور رنگ ونسل خدمت خلق اور رعایا پروری ان کا مسلک رہا جن لوگوں نے تیرہ سال تک ان کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی ان کو بھی محبت سے گلے لگایا اور عفو و در گذر کا ایسا شاندار نمونہ پیش کیا جس کی مثال نسل انسانی کی ساری تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتی جہاں ان کی اطاعت وه فا صبر و رضا اور ہمت و شجاعت بے مثال ہے ، وہاں اپنوں اور بیگانوں سے ان کا حسن سلوک اور ان کی باہمی الفت و محبت بھی بے مثال ہے۔اسی وجہ سے رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کے معزز خطاب سے سر فرانہ کئے گئے اور یہ سب نتیجہ ہے اس تعلیم و تربیت کا جو انھوں نے سید المرسلین، فخرالاولین والآخرین حضرت محمد مصطفے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں رہ کر پائی۔اللهم صل على محمد وال محمد وبارك وسلم انك حميد مجيد - مسیح محمدی کے انصار آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا زمانہ وہ با برکت زمانہ تھا جس میں نسل انسانی کے لیے فلاح دارین کی راہیں کھولی گئیں، شریعت اور دین اپنے کمال کو پہنچے اور آسمانی بادشاہت اپنی تمام شان اور عظمت کے ساتھ روئے زمین پر محیط ہوگئی۔صحابہ کرام نے اپنی بے پناہ قربانیوں ، اشتہار اور خدا کاریوں اور والہانہ عشق و محبت کے ذریعہ فنافی اللہ اور فنافی الرسول کا مقام حاصل کر کے رہتی دنیا کے لیے ایک بے مثال نمونہ قائم کر دیا اور اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دور دنیا کی تاریخ کا زرین کر را دور تھا اور اسلام کا ظہورہ ساری نسل انسانی بلکہ کل مخلوقات کے لیے باعث رحمت و برکت بنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے مطابق رحمت و برکت کا یہ دورہ رحمن میں صحابہ کرام مصروف عمل رہے ، ایک سو سال تک رہا۔اس کے بعد تابعین اور تبع تابعین کا دورہ مزید دو سو سال تک جاری رہا اور دنیا اسلام کی حسین تعلیم اور اس کے شیریں ثمرات سے متتبع ہوتی رہی، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے تین سو سال بعد ایک تاریکی کا دور شرو ع ہوا جس کی ظلمتیں ایک ہزار سال کے عرصہ میں اپنی انتہا