تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 124
کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کی ذمہ داری اُٹھائے کہ اس کے گھر میں اس کی بیوی اور نیچے یا اور ایسے احمد می کو تین کا خدا کی نگاہ میں وہ رائی ہے قرآن کریم پڑھتے ہیں اور قرآن کریم سیکھنے کا وہ حق ادا کرتے ہیں جو حق ادا ہونا چاہیے اور انصار اللہ کی تنظیم کا یہ فرض ہے کر وہ انصار اللہ مرکز یہ کو اس بات کی اطلاع دے اور ہر جینے اطلاع دیتی رہے کہ انصار اللہ نے اپنی ذمہ داری کو کسی حد تک نبھایا ہے اور اس کے کیا تاریخ نکلے ہیں۔۔۔۔۔۱۳۵۰ پیش کی شوری میں ملبس حسن پور (ضلع لائلپور نے تجویز پیش کی نصاب بنیادی معلومات لی تر امتحان دو معیار کے ہونے چاہیں، اس تجویز پر غور کے دوران تھی کہ یہ محسوس کیا گیا کہ اراکین انصاراللہ کے لیے ایک اقل تعلیمی معیار مقرر کرنا چاہیئے تاکہ سب اراکین بنیادی دینی معلومات اور عقائد سے باخبر ہوں، اس غرض کے لیے ایک سرکتی سب کمیٹی بنائی گئی جس کے صدر صاجزادہ مرزا طاہر احمد صاحب مقرر ہوئے، اس کمیٹی نے نصاب کا ایک خاکہ تیارہ کیا اور اس کے مطابق رسالہ تیار کرنے کا کام پر وفیسر حبیب اللہ خان صاحب قائد تعلیم کے سپرد کیا گیا۔وہ رسالہ مجلس کی جانب سے نصاب بنیادی معلومات " کے نام سے شائع کر دیا گیا۔اس رسالہ میں اسلام اور احمدیت کے بنیادی عقائد کے علاوہ بعض اور ضروری دینی معلومات شامل کی گئیں۔یہ بھی فیصلہ ہوا کہ اس نصاب کی تیاری اور مقامی طور پر امتحان لینے کی ذمہ داری زعماء مجالس پر ہوگی۔زعما زبانی امتحان کے ذریعہ اس امر کا اطمینان کرینگے کہ نصاب پر پوری طرح عبور حاصل کر لیا گیا ہے اور ایسے اراکین کے ناموں سے مرکزی دفتر کو اطلاع دیتے رہیں گے اراکین مجلس کو بنیادی معلومات کے نصاب کی تیاری کے لیے مناسب وقت دینے کی غرض سے مرکزہ ہی ہستی انگا کی تعداد جاسکی بجائے تین کر دی گئی اس طرح سواء سے کام یک سال از تمن امتحان منعقد ہوتے رہے لیکن حضرت امیرالمومنین کے ارشاد کی روشنی میں شاہ سے امتحانوں کی تعداد پھر مار کر دی گئی قرآن کریم کے پاروں کے ترجمہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو کتب بطور نصاب ان امتحانات میں منظور کی گئیں ان کی تفصیل درج ذیل " 145 ہے اس کے ساتھ ہی ہر سہ ماہی میں امتحان میں شریک ہونے والوں کی تعداد اول و دوم آنے والے اراکین کے اسماء گرامی می نام مجلس درج کئے گئے ہیں:۔