تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 121
جوافراد معمولی نوشت و خواند نہیں رکھتے تھے لیکن ناظرہ قرآن کریم پڑھ سکتے تھے ان کے لیے یہ نصاب مقر ہوا۔اردو کا قاعدہ اردو کی پہلی کتاب لکھائی کے لیے اُردو کاپی نمبر ۲ یا اردو حروف ابجد اس کے لیے چھ ماہ کی مدت پوری ہوئی اس کیساتھ نماز کا ترجم سکنے کے لیے دو ماہ کے گئے ستم صاحبان تعلیم و تربیت کو اس نظام کی اموات ہونی کی اور ان کو ہدایت کی گئی کہ روزانہ اس کام کے لیے اور آدھ گھنٹے کا وقت لیا جائے۔اس نصاب کے لیے یکم تبوک است بر اساس اس میں سے تو یہ ستمبر یا سیاسی کا وقت مقرر کیا گیا بلے ۱۳۳۱ برش تبوک ۱۳۳۲ جب حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی قیادت میں اس دور جدید میں متحانات کا غازی کا دور دیدار اور تعلیم کے اس میں بھی بات اسدی نظیم دور رو ہو کام میں $1900 51400 پیدا ہوگئی، اراکین کے لیے باقاعدہ امتحانات کا سلسلہ از سر نو شروع کیا گیا ، شوری پیشی میں یہ فیصلہ ہوا کہ اراکین انصاراللہ کو تعیمی معیار کے لحاظ سے تین گروپ میں تقسیم کر دیا جائے اور ان کے لیے الگ الگ نصاب تجویز ہوا نیز کتب حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا امتحان پیششماہی پر ہوا کرے چنانچہ اس کے مطابق اگلے سال سے عمل شروع ہو گیا پھر یہ محسوس کرکے کہ تعلیم القرآن کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہے پیش کی شوری میں یہ فیصلہ ہوا کہ ششماہی کی بجائے ہر سہ ماہی پر امتحان ہوا کرے۔دو امتحانات کے لیے قرآن کریم کے ایک پارہ کا ترجمہ بطور نصاب مقرر ہو اور دور میں کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام امتحان کے لیے دیکھی جائیں ، چنانچہ باری باری ایک سہ ماہی میں نصف پارہ کا ترجمہ اور ایک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی کتاب امتحان کے لیے مقرب کی جانے لگی اور یہ سلسلہ تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اسی طرح اب تک برابر جاری ہے ، امتحان میں اقول و دوم آنے والوں کو بالترتیب دس روپے اور پانچ روپے کی کتب بطور انعام دی جاتی ہیں ، کچھ عرصہ تک استحان کے نتائج کا اعلان حاصل کردہ نمبروں کی شکل میں کیا جاتا رہا ، پھر یہ فیصلہ کیا گیا کہ صرف ڈویژن یا درجہ کی شکل میں اعلان کافی ہے۔اب اس کے مطابق ہی عمل ہوتا ہے اور نتیجہ متعلقہ مجالس کو ارسال کر دیا جاتا ہے میں سے کامیاب اراکین کو استاد بھی دی جاتی ہیں۔اول و دوم آنے والوں کے نام اخبار الفضل اور ماہنامہ انصار اللہ میں شائع کر دیئے جاتے ہیں۔·14° له الفضل ۱۵ - الماء اکتوبر ۱۳۳۶ بیش ١٩٥١ء