تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 11 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 11

" بسم الله الرحمنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكريم پہلا باب انصار اللہ کے دو معزز گروه سورۃ الصف میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ارشاد فرمایا ہے کہ کو نوا انصار الله صحابہ کرام کی مقدس جماعت تم انصار اللہ بن جاؤ۔اس ارشاد باری کے اولین مخاطب ہمارے آقا محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ بزرگ ساتھی تھے جنہوں نے آنحضور کے پیغام پر لبیک کہا اور صحابہ کرام کہلاتے انھوں نے میں ذوق و شوق جس والانه حقیدت میں اخلاص و وفاشعاری اور میں شان سے اس حکم کی تعمیل کی وہ تاریخ میں ہمیشہ آپ اپنی مثال رہیگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اولین مخاطب عرب کے وحشی بدو تھے جو تہذیب و تمدن سے نا آشنا، علم و عرفان سے بے بہرہ اور اخلاق و شائستگی سے بھی عاری تھے۔دنیا کی کوئی بھی ایسی تھی جو ان میں پائی نہ جاتی ہو۔شراب نوری ، قماره بازی ، زنا، لوٹ مار ، جنگ و جدل، فواحش پر فخرو ناز ان کا محبوب مشغلہ تھا ، شریعیت اور قانون کی پابندیوں سے آزاد وہ اپنے انہیں اشغال میں مصروف تھے کہ اچانک فاران کی چوٹیوں سے خدا کجا نور ان پر ایک اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے بحروبر کی ظلمتوں کو کافور کر دیا۔پھر وہ جو ذرۂ خاک تھے شریا بن کر چپکے۔وہ جو جاہل معلق تھے دنیا کے استاد معلم بنے وہ جو قانون کی پابندیوں سے کمیسر آزاد تھے انھوں نے قال اللہ اور قال الرسول کو اپنا شعار بنایا اور شریعت کا جوا اپنی گردن پر رکھا۔وہ جو اپنے خصائل وعادات میں درندوں اور وحشیوں سے ابتر تھے اخلاق عالیہ اور فضائل حسنہ سے ایسے مزین ہوئے کہ دنیا ان کو دیکھ کر انگشت بدندان رو گئی، وہ جو زمانہ جاہلیت میں لہو و لعب اور نفس پرستی میں محو رہتے تھے اپنے نفس سے ایسے کاٹے گئے کہ ان کی ساری خواہشیں ، ساری تمہیں اور ساری تگ و دو صرف اس مقصد کے لیے مختص ہو گئی کہ ان کا رب ان سے کسی طرح راضی ہوتا ہے۔انھوں نے اپنے وطنوں کو خیر باد کیا، اپنے اموال کو بے دریغ خرچ کیا اور اپنے خون کو پانی کی طرح بہایا تاکہ محبوبہ حقیقی رشتہ استوار ہو۔اسلام قبول کر لینے کے بعد ان کو نہ جائیدادوں سے دلچسپی رہی، نہ بیوی بچوں سے شغف |