تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 62
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۶۲ مظفر احمد صاحب ۴۔مکرم مبشر احمد کاہلوں صاحب ۵۔مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ۶۔مکرم محمد اعظم اکسیر صاحب نائب صدر صف دوم: ا۔مکرم ڈاکٹر عبدالخالق خالد صاحب ۲۔مکرم خالد محمود الحسن بھٹی صاحب اس کے بعد مجالس کی طرف سے آمدہ تجاویز برائے ایجنڈا شوری کا جائزہ لیا گیا۔تجویز از نظامت ضلع سرگودہا: نصاب شعبہ تعلیم کے لئے کتب کی قیمت چندہ اشاعت کی شرح زیادہ کر کے پوری کر لی جائے۔علیحدہ قیمت نہ لی جائے۔فیصلہ عاملہ: اس تجویز کے بارہ میں فیصلہ ہوا کہ یہ انتظامی معاملہ ہے اس لئے شوریٰ میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔-۲- تجویز از زعامت علیاء مغلپورہ لاہور: جماعت میں بفضلہ تعالیٰ نو مبائعین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ان کی تربیت کے لئے ٹھوس لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔اس سلسلہ میں تجویز ہے کہ (i) اصلاح وارشاد کی طرح اس میں بھی کمیٹیاں بنائی جائیں جو غور و خوض کریں۔(ii ) یوم تربیت نو مبائعین منائے جائیں۔(iii) ذاتی رابطہ بڑھایا جائے وغیرہ۔فیصلہ عاملہ یہ تجویز ایجنڈا میں شامل کر لی جائے۔-۳- تجویز از زعامت علیاء ماڈل کالونی کراچی: مرکز میں صدر مجلس انصاراللہ پاکستان ربوہ کی عاملہ کے ممبران کو قائدین کہا جاتا ہے۔اس طرح مجلس انصار اللہ کے زعیم اعلیٰ کی مجلس عاملہ کے ممبران منتظمین کہلاتے ہیں اور مجلس کی عاملہ کے ممبران ناظمین کہلاتے ہیں۔مندرجہ بالا عہدیداران اپنے ساتھ نائب بھی مقرر کرتے ہیں اور اس کی منظوری متعلقہ صدر صاحبان سے حاصل کرتے ہیں۔مجلس انصار اللہ ضلع کے ناظم صاحب کی عاملہ کے ممبران نائب ناظمین کہلاتے ہیں۔اس میں مشکل یہ ہے کہ اگر کوئی نائب ناظم اپنا نائب بنانا چاہے تو اسے کون سا نام دیا جائے۔ہماری مجلس تجویز کرتی ہے کہ ضلع کے ناظم صاحب کو ناظم اعلیٰ اور ان کی مجلس عاملہ کے ممبران ناظمین کہلائیں۔اگر وہ نائب مقرر کرنا چاہیں تو اس کو نائب ناظم کا نام دیا جائے تو زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔