تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 296
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم تاریخ و وقت رپورٹ ۲ نام و سکونت اطلاع دہندہ مستغیث ۱۱ مارچ ۲۰۰۱ ء بوقت سو بارہ بجے علامہ احمد میاں حمادی ولد مولانا محمود حسین جگہ اور رہائش جامع مسجد ٹنڈو آدم ضلع سانگھڑ مختصر کیفیت جرم ( مع دفعہ ) و مال اگر کچھ کھویا ۲۹۸ی -۲۹۵سی -۲۹۵ بی ۳۴ پی پی سی گیا ہے جائے وقوعہ وفاصلہ تھانہ سے اور سمت کارروائی متعلقہ تفتیش اگر اطلاع درج کرنے میں کچھ تو قف ہوا ہو تو اس کی وجہ بیان کی جائے تھانہ سے روانگی کی تاریخ جامع مسجد شہر ٹنڈو آدم PS سے مشرق شمال کو نا فاصلہ تقریباً ۲ فرلانگ شہر دیہہ تعلقہ ٹنڈو آدم NO-DELAY ۱۱ مارچ ۲۰۰۱ء دستخط: عبدالجبار عهده :ASI ابتدائی اطلاع نیچے درج کرو۔نوٹ :۔اطلاع کے نیچے اطلاع دہندہ کے دستخط یا مہر یا نشان انگوٹھا ہونا چاہئے اور افسر تحریر کنندہ (ابتدائی اطلاع) کے دستخط بطور تصدیق ہونے چاہئیں۔درخواست ہے کہ میں جامع مسجد ٹنڈو آدم کا خطیب اور صدر تنظیم تحفظ ناموس ختم نبوت سندھ ہوں۔مؤرخہ ۳۱ جنوری ۲۰۰۱ء کو بعد نماز مغرب مسجد میں موجود تھا کہ قرآن شریف کو الماری میں سے ایک نمازی شار احمد ولد صغیر احمد رہائش ٹنڈو آدم نے تلاوت کیلئے اٹھایا کہ اس کے اوپر قادیانیوں کا ایک رسالہ ماہنامہ انصار اللہ جنوری ۲۰۰۱ ء شمارہ نمبر جلد نمبر ۲ رکھا ہوا تھا۔اس وقت مسجد میں آغا سید محمد اسلم اور دوسرے نمازی بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے رسالہ خود پڑھ کر دوسروں کو پڑھ کر سنایا اور رسالے کے صفحہ ۱۴،۱۲،۳،۲، ۳۰،۱۶ پر غلام احمد قادیانی کیلئے درود کے الفاظ اور علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔صفحہ نمبر۴۱،۲۹،۱۰،۶،۳ پر قرآن شریف کی سورتیں چھاپ کر قرآن شریف کو قادیانی مذہب کا ظاہر کیا ہے۔صفحہ ۱، ۹ ۱۰ پر آنحضور کے مقدس لفظ اور صفحہ ۹ ۱۰ پر رسول کریم کے فرمودات لکھ کر قادیانیوں کو مسلمان ظاہر کیا گیا ہے۔صفحہ نمبر ۴ پر ایک قادیانی کو قائد تالیف قرآن لکھا ہے اور صفحہ نمبر ۱۳۱۱،۴۰۱، ۳۰ پر حضرت مولانا اور مولوی کے الفاظ بھی قادیانیوں کیلئے استعمال کئے گئے ہیں اور ساتھ ساتھ