تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page iii
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پیش لفظ مجلس انصار اللہ جماعت کی وہ ذیلی عظیم ہے جس کی بنیاد حضرت خلیفۃ السیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے اپنے دست مبارک سے ۲۶ / جولائی ۱۹۴۰ء کو رکھی تھی۔پون صدی گزرنے کے بعد خلفائے احمدیت کی مسلسل رہنمائی اور سر پرستی میں اس کی شاخیں قادیان کی مقدس سرز مین سے نکل کر اب دنیا کے کونے کونے میں پھیل چکی ہیں اور مخلص و ایثار پیشہ انصار کی خدمات کا سلسلہ طویل سے طویل تر ہو رہا ہے۔الحمد للہ علی ذالک زندہ قومیں اپنی روایات اور تاریخ کو زندہ رکھتی ہیں اور ان کاموں اور افراد کو کبھی فراموش نہیں کرتیں جن پر اس کی ترقیات کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔اس لئے حضرت مصلح موعود نے اپنے ایک لیکچر میں فرمایا تھا:۔اقوام کی ترقی میں تاریخ سے آگاہ ہونا ایک بہت بڑا محرک ہوتا ہے اور کوئی ایسی قوم جو اپنی گزشتہ تاریخی روایات سے واقف نہ ہو، کبھی ترقی کی طرف قدم نہیں مارسکتی۔اپنے آبا ؤ اجداد سے حالات کی واقفیت بہت سے اعلیٰ مقاصد کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔“ مجلس انصار اللہ نے شوریٰ انصار اللہ ۱۹۷۲ء/ ۳۵۱اعش میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ تاریخ انصار اللہ مدون کی جائے۔اس فیصلہ کی تعمیل میں ۱۹۷۸ء میں اسکی پہلی جلد ، ۲۰۰۶ء میں دوسری جلد اور ۲۰۰۹ء میں اسکی تیسری جلد اشاعت پذیر ہوئیں۔اب اس کی چوتھی جلد انصار کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے جس کی تدوین عزیز صاحب کی قلم سے ترتیب پائی ہے۔ان کے سپرد یہ ذمہ داری ۲۰۰۴ء میں کی گئی تھی۔آپ نے نہایت محنت اور جانفشانی سے اخبارات و رسائل سے متعلقہ مواد نکالا نیز دفتری ریکارڈ کا