تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 206
۱۸۶ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم سے انسٹھ مقالہ جات موصول ہوئے۔جس میں سر فہرست کراچی رہا جہاں سے اکیس مقالہ جات موصول ہوئے۔فیصل آباد سے گیارہ ، لاہور سے آٹھ ، ربوہ سے چھ، راولپنڈی سے تینا ور اسلام آباد سے تین مقالہ جات موصول ہوئے اس کے علاوہ شیخو پورہ، ملتان ، جہلم ، جھنگ، چکوال اور حافظ آباد کے اضلاع نے بھی مقابلہ میں نمائندگی کی تمام شرکت کرنے والے انصار کو اسناد شرکت دی گئیں۔مقالہ میں پہلی چار پوزیشنوں اور معیاری مقالہ جات کی فہرست درج ذیل ہے۔اوّل مکرم مسعود احمد ظفر صاحب عزیز آباد کراچی دوم مکرم عمر حیات صاحب فیکٹری امیر یار بوہ سوم مکرم منصور احمد لکھنوی صاحب گلشن اقبال شرقی کراچی چهارم مکرم منصور احمد ظفر صاحب دار الفضل شرقی ربوه : مکرم محمد ثناء اللہ صاحب شیخوپورہ حسن کارکردگی: مندرجہ بالا پوزیشنز کے علاوہ جن انصار کے مقالہ جات قابلِ ستائش حد تک معیاری تھے اُن کے اسماء یہ ہیں۔مکرم محمد اشرف صاحب کا اہلوں دارالذکر فیصل آباد، مکرم عبدالشکور صاحب سمن آباد لا ہور ، مکرم داؤ داحمد ملک صاحب را ولپنڈی صدر ، مکرم ملک خلیل احمد ناصر صاحب گلستان جو ہر کراچی، مکرم میجر (ر) میاں عبدالباسط صاحب راولپنڈی صدر، مکرم منیر احمد بٹ صاحب بیت التوحید لاہور ،مکرم عبدالمنان شاہکوئی صاحب نارتھ کراچی، مکرم مصور احمد طاہر صاحب ماڈل کالونی کراچی، مکرم سید سلیم شاہجہانپوری صاحب گلشن اقبال غربی کراچی ، مکرم عبدالکریم خالد صاحب بیت التوحید لا ہور انعامات مقابلہ مقاله نویسی ۲۰۰۳ء: اس پہلے مقابلہ مضمون نویسی کے لئے انعامی شیلڈ اور سند امتیاز کے علاوہ مندرجہ ذیل انعامات تقسیم کئے گئے۔اوّل: کتب + تین ہزار روپے نقد دوم کتب + دو ہزار روپے نقد سوم کتب + ایک ہزار روپے نقد یہ انعامات سالا نہ علمی ریلی ۲۰۰۳ء کے موقع پر ۱۴؍دسمبر ۲۰۰۳ء کو حضرت مرزا عبدالحق صاحب امیر ضلع سرگودہانے تقسیم فرمائے۔