تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 971
۹۷۱ دوسرا اجلاس مکرم محمود تھر یکلڈ صاحب ( انگریز احمدی بھائی ) کی صدارت میں منعقد ہوا۔تلاوت ونظم کے بعد مکرم اسمعیل آڈو صاحب ( چیئر مین بین افریقن احمد یہ ایسوسی ایشن) نے سیرت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ، پر مکرم چوہدری ہدایت اللہ صاحب بنگوی نے نو جوانوں کی تربیت اور انصار کی ذمہ داری مکرم چوہدری رشید احمد صاحب ( مرکزی پریس سیکرٹری برطانیہ ) اور مکرم طاہر عارف صاحب نے اسیرانِ راہِ مولا کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے خاص دعاؤں کی تحریک کی۔جس کے بعد مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی۔تیسرا اجلاس زیر صدارت بشیر الدین احمد صاحب سامی معتمد عمومی منعقد ہوا جس میں بہت سے احباب نے اپنا اپنا کلام سنایا بعد ازاں کھیلوں کے مختلف مقابلے ہوئے۔جن میں رسہ کشی کا مقابلہ بھی تھا جو 2 انگلستان اور دیگر یورپین مجالس کے درمیان ہوا۔اس میں یورپین مجالس نے اول پوزیشن حاصل کی۔شام کے کھانے میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع از راه شفقت تشریف لائے اور اپنے جانثار انصار کے ساتھ کھانا تناول فرمایا۔اس کھانے میں مکرم الحاج یعقو بو صاحب نے بھی شمولیت فرمائی اور کھانے سے پہلے خطاب فرمایا اور احمد یہ جماعت کی مختلف شعبوں میں خدمات کی دل کھول کر داد دی۔دوسرے دن کے اجلاس میں بیرونِ انگلستان سے تشریف لائے ہوئے نمائندگان نے خطاب فرمایا جن میں مکرم محمد شریف خالد صاحب (جرمنی) ، مکرم هبتة النور فرحاخن صاحب (ہالینڈ) ، مکرم محمد جمیل صاحب (ڈنمارک) اور مکرم خواجہ عبد المومن صاحب (ناروے) شامل ہیں۔مکرم مولانا بشیر احمد صاحب رفیق نے مباہلہ۔تاریخ کی روشنی میں اور مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب نے ذکر حبیب بحوالہ تربیت اولاد کے موضوعات پر تقاریر کیں۔وو اختتامی اجلاس میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے اپنے دست مبارک سے انعامات تقسیم فرمائے اور خطاب فرمایا۔دعا کے بعد اجتماع بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔﴿۲۳﴾ سید نا حضرت خلیفۃ اسیح الرابع کا اختتامی خطاب حضور کے خطاب کا خلاصہ حضور ہی کے مبارک الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے۔حضور نے فرمایا : مجلس انصاراللہ یو کے کا اجتماع کا میاب اختتام کو پہنچ رہا ہے۔انصار نے سال بھر محنت سے کام کیا اور انہوں نے مختلف جہتوں کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔میں نے ان کے کام کا جائزہ لیا ہے اور اگر چہ اچھا کام وہ کر رہے ہیں تاہم اس میں بہتری کی کافی گنجائش موجود ہے۔اجتماع میں شرکت کے اعتبار سے مجالس کی تعداد میں اضافہ بہت کم ہوا ہے۔پچھلے سال انتالیس مجالس نے حصہ لیا تھا امسال چالیس مجالس نے حصہ لیا ہے۔اگر چہ انصار کی انفرادی تعداد میں اضافہ نمایاں ہے۔پچھلے سال دو سو چھیانوے انصار کی تعداد کے مقابلہ میں اس سال تین سو ترپن انصار نے شرکت کی ہے۔حسب سابق جرمنی اول نمبر پر ہے۔