تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 932
۹۳۲ علمی مقابلہ جات اجلاس اوّل کے بعد تمام حاضرین کی خدمت میں چائے پیش کی گئی۔اسی دوران احاطہ بیت الناصر میں ہی علمی مقابلہ جات منعقد کروائے گئے۔درج ذیل انصار انعام کے حقدار قرار پائے۔تلاوت قرآن کریم : اول مکرم عبدالرؤف بھٹی صاحب ، دوم مکرم محمد ارشد قریشی صاحب، سوم مکرم سر و ر احمد صاحب دارالعلوم وسطی۔نظم : اول مکرم چوہدری سلطان احمد صاحب، دوم مکرم محمد ایوب بٹ صاحب، سوم مکرم سر و راحمد صاحب تقریر : اول مکرم محمد طارق محمود صاحب دارالعلوم شرقی ، دوم مکرم غلام محمد صاحب دار العلوم شرقی ، سوم مکرم صو بیدا ر شاکر حسین صاحب دارالیمن شرقی۔اجلاس دوم ٹھیک ساڑھے بارہ بجے مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس کی صدارت میں شروع ہوا۔مکرم عزیز الرحمن خالد صاحب نے تلاوت قرآن کریم کی۔مکرم عبد السلام ظافر صاحب نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا منظوم کلام خوش الحانی سے سنایا۔بعد ازاں مکرم زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ نے مجلس کی سالانہ رپورٹ کا رکردگی پیش کی۔آپ نے بتایا کہ آج کے اجتماع میں حاضری کے لئے بھر پور کوشش کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس اجتماع میں حاضرین کی تعداد تقریباً پندرہ صد ہے اور ان میں بارہ نو مبائعین بھی شامل ہیں۔بعدۂ صدر محترم نے سالانہ کھیلوں میں اعزاز پانے والے درج ذیل احباب میں انعامات تقسیم کئے۔سائیکل ریس: اول مکرم چوہدری محمد افتخار احمد صاحب ناصرآباد، دوم مکرم رفیق احمد صاحب دارالفضل غربی سلوسائیکلنگ : اول مکرم ریاض احمد حجہ صاحب فیکٹری ایریا، دوم مکرم حفیظ الرحمن صاحب دار الصدر شرقی۔سو میٹر دوڑ : اول مکرم ظفر احمد صاحب دارالیمن شرقی ، دوم مکرم نور احمد علوی صاحب کلائی پکڑنا : اول مکرم مبارک احمد علوی صاحب دار الیمن شرقی ، دوم مکرم ظهور احمد پال صاحب نصیر آبا د عزیز رسہ کشی حلقہ جات : اول ٹیم نصیر آباد عزیز ، دوم ٹیم ناصر آباد شرقی رسہ کشی بلاکس : اول ٹیم نصیر بلاک، دوم ٹیم طاہر بلاک والی بال : اول ٹیم کیپٹن مکرم رفیق احمد خان صاحب، دوم ٹیم کیپٹن مکرم ماسٹر محمد ارشد صاحب پیغام رسانی: اول مکرم ملک اللہ بخش صاحب صدر بلاک ب، دوم مکرم محمد اقبال جاوید طاہر بلاک صدر محترم نے تقسیم انعامات کے بعد سوا گھنٹہ تک اختتامی خطاب فرمایا۔آپ نے انصار کو ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ اجتماعات تعلیم و تربیت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہوتے ہیں، ان سے فائدہ اٹھا ئیں اور جو باتیں سنتے ہیں ان پر عمل پیرا ہوں۔وعظ ونصیحت کا نظام مسلسل جاری رہنا چاہئیے۔استقامت اور کوشش میں فرق نہیں آنا چاہئیے۔